بیکار بھاؤ بکو گے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۶
سالہا سال کی محنت بعد تمام ہوا۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن حیدر آباد سے چھاپا گیا تھا۔ تاہم اس میں کثرت سے مطبعی غلطیاں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے دو عرب علماء شیخ نائف العباس اور شیخ محمد علی دولہ کو یہ توفیق دی کہ وہ پوری کتاب کو دوبارہ تصحیح اور تعلیق کے ساتھ شائع کریں۔ وہ دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے جگہ جگہ جزئی اضافے بھی کئے ہیں ونضيف الكلام الذي نسيبه المؤلف اثناء النقل) کتاب کا کاغذ، چھپائی اور جلد ہر چیز نہایت عمدہ ہے اور دیکھتے ہی جی چاہتا ہے کہ اس کو پڑھنا شروع کردیں۔
ریاض میں ڈاکٹر عبدالرشید صاحب سے ملاقات بھی قابل ذکر ہے۔ انہوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی۔ وہ قرآن کے مطالعہ کا بے حد ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن اللہ اور بندہ کے درمیان مقام اتصال (Point of contact) ہے ۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ بحیثیت ڈاکٹر جب میں انسان کے جسم کو دیکھتا ہوں تو میں خدا کے کمالات میں ڈوب جاتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر وقت خدا کے اختیار میں ہے۔ یہ گویا ایک ریموٹ کنٹرول کا نظام ہے۔ خدا اگر ریموٹ کنٹرول سے ہارٹ بیٹنگ کو روک دے تو ایک لمحہ میں ہمارا وجود ختم ہو جائے ۔ جدید دریافتوں نے اسلامی حقیقتوں کی تفہیم کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔
۷ مارچ کی شام کو میں نے ریاض سے دہلی ٹیلیفون پر بات کی۔ ریاض اور دہلی کے درمیان ڈائرکٹ ڈائلنگ ہے۔ ٹیلیفون پر حسب ذیل نمبروں پر انگلی رکھی گئی :
اور ایک منٹ کے اندر دہلی میں ہمارے دفتر کے ٹیلیفون پر گھنٹی بجنے لگی۔ میں نے ریسیور اٹھا کر "ہلو" کہا تو دوسری طرف سے میرے لڑکے کے ثانی اثنین کی آواز آئی ۔ یہ موجودہ زمانہ کی بہت زیادہ عام سہولت ہے۔ مگر کتنے کم ہیں وہ لوگ جو اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خدا کو یاد کرتے ہیں۔ اس وقت آدمی اگر خالق کو یاد کرے تو اس کا حال یہ ہو گا کہ بظاہر اگر چہ وہ ٹیلیفون پر کسی آدمی سے بات کرے گا مگر اس کی روح خدا سے ہم کلام ہو رہی ہوگی۔ ٹیلیفونی ربط اس کو خدا سے مربوط کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ سعودی عرب میں مختلف اخبارات نکلتے ہیں۔ اکثر عرب ملکوں کے اخبارات محض پروپیگنڈے والی باتوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ تاہم سعودی عرب کے اخبارات نسبتاً کافی بہتر نظر آئے۔
یہاں ایک روزنامہ "عرب نیوز" کے نام سے نکلتا ہے جو بیک وقت جدہ اور ریاض سے شائع ہوتا ہے۔ عرب نیوز میں ہر روز آخری صفحہ پر ایک دل چسپ کالم ہوتا ہے ۔ ۱۰ جمادی الثانی ۱۴۰۲ھ (۱۲ مارچ 1984) ایک رپورٹنگ کے ذیل میں حسب ذیل لطیفہ درج تھا۔