بیکار بھاؤ بکو گے
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹
تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ نصیف نے غم ناک انداز ہیں کہا:
نحن نری حال المسلمین فی کل مکان وضعهم السییء۔ امکانیاتہم الضعیفۃ۔ فقرہم جہلہم۔ انتشار الامر اض بینہم ہم ہر مقام کے مسلمانوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کا حال برا ہے۔ ان کے وسائل بہت کم ہیں۔ ان میں غریبی اور جہالت ہے۔ ان کے درمیان بیماریاں پھیلی ہوئی ہیں۔
۱۸ مارچ کی دوپہر کو ہم وزارت داخلہ کے دفتر میں پہنچے۔ عظیم عمارت کی تیسری منزل کے وسیع ہال سے گزرے تو وہاں بڑے بڑے قالین بیجھے جارہے تھے۔ معلوم ہوا کہ ابھی نمازِ ظہر ادا کی گئی ہے۔ اسی طرح سعودی مملکت کے تمام دفاتر میں نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے اور تمام کارکنان کے لئے لازم ہے کہ وہاں وقت پر آکر نماز ادا کریں۔
اس کے بعد ہم لوگ نائف وزیر کے دفتر میں داخل ہوئے۔ جدید طرز کے عظیم دفتر میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا تھا جو بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ”مولوی“ ہے۔ نائب وزیر موصوف نے انتہائی اکرام کے ساتھ ملاقات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ہم آپ کی کتابیں پڑھے ہوئے ہیں اور آپ کے بے حد قدرداں ہیں۔ انھوں نے اسی وقت وزیر محترم سے ملاقات کے لئے ٹیلی فون کیا۔ وزیر موصوف اپنے روزانہ کے معمول کے مطابق نماز ظہر سے فارغ ہو کر عوام کی شکایات سن رہے تھے۔ یہ نمازِ ظہر کے بعد ان کا روزانہ ایک گھنٹہ کا معمول ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عوامی ملاقات میں شیخ وحید الدین سے ملنا مناسب نہیں بہتر ہے کہ کل ان سے باقاعدہ ملاقات ہو۔ چنانچہ کل کا وقت طے ہوا۔
اگلے دن ۱۹ مارچ کو وزیرِ داخلہ (سعودی مملکت) سے ملاقات ہوئی۔ یہ شہزادہ نائب بن عبدالعزیز ہیں جو موجودہ شاہ فہد کے حقیقی بھائی ہیں۔ جتنا عظیم الشان ان کا دفتر ہے اور ان کے گرد جتنے وسیع انتظامات میں اس کے لحاظ سے ہمارا سامنا ایک ایسے شخص سے ہونا چاہئے تھا جو کبر کی تصویر بنا ہوا ہو۔ مگر جب ہم ملے تو ہمارے سامنے ایک ایسا شخص تھا جو سراسر تواضع کا نمونہ دکھائی دیتا تھا۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ شہزادہ مذکور مجھ سے اور میرے کام سے بخوبی واقف ہیں۔ انھوں نے نہایت توجہ سے ہماری دعوتی باتوں کو سنا۔ اور اس پر اپنی طرف سے آیات اور احادیث کا اضافہ کرتے رہے۔ انھوں نے نہ تو اپنے کارناموں کو بیان کیا اور نہ کسی مفروضہ دشمن کے خلاف جوش و غضب کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ ہم سب کو اللہ توفیق دے کہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ دین کا کام کر سکیں۔ سعودی عرب کے ذمہ داروں سے ملاقات کے وقت مجھے ایسا ہوا کہ اس علاقہ پر خدا کی خاص