I hope I did not disturb you.
الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۲
ظاہر ہے کہ ہندوستان کے اگلے سفر کے موقع پر اسلامی مرکز کی بھی زیارت کریں۔
جدہ میں ہم نے سرکاری مہمان بننے کے بجائے جناب محمد رفیق قریشی کی میز بانی کو پسند کیا۔ اس کی وجہ سے یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملا۔
ڈاکٹر احمد محمد علی سے ملاقات ہوئی جو اسلامیڈویلپمنٹ بنک کے صدر ہیں۔ مختلف ملاقاتوں کے درمیان میں نے محسوس کیا کہ راقم الحروف نے جو آواز پہلے بلند کرنا شروع کیا تھا اس کی اہمیت اب عام طور پر محسوس کی جانے لگی ہے۔ اب سوچنے سمجھنے والا طبقہ عام طور تسلیم کرتا ہے کہ دعوت اسلامی کا کام قومی اور سیاسی جھگڑوں سے الگ ہو کر کرنا چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ جو بات پچھلے برسوں میں اجنبی بنی ہوئی تھی، بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب کہ وہی تمام لوگوں کی بات ہوگی۔
۲۱ مارچ کی صبح کو، ہم مولانا عبد الوحید ندوی کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ پہنچے۔ طواف کعبہ کے دوران بھیڑ نہیں تھی، اس لئے حجر اسود تک پہنچنے کا موقع بھی آسانی سے مل گیا۔ حجر اسود ایک بڑے پیالہ کے مانند نظر آیا۔ عمرہ گویا چھوٹا حج ہے۔ کعبہ کے گرد گھومتے ہوئے اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہوئے جو احساسات ایک مومن پر طاری ہوتے ہیں ان کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
۲۱ مارچ کی شام کو ہم جدہ سے دوبی کے لئے روانہ ہوئے۔ جہاز میں مجھے سردی کا احساس ہوا تو اوپر کا خانہ کھولا کہ اس میں سے کمبل نکال کر پیروں پر ڈال لوں۔ مگر وہاں صرف تکیہ رکھا ہوا تھا۔ مجھ کو ٹٹولتے ہوئے دیکھ کر جہاز کا ایک کارکن قریب آیا اور بولا Can I help you. (کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں) اردو میں اسی بات کو کہنا ہو تو آدمی کہے گا "آپ کو کیا چیز چاہئے" ، زبان کا یہ اسلوب دونوں زبان کے بولنے والوں کے مزاج میں بھی منتقل ہوا ہے جس کا مظاہرہ مختلف عملی پہلوؤں سے ہوتا رہتا ہے۔
۲۰ مارچ کی شام کو ہمارا جہاز دوبئی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ جیسے ہی میں ہوائی جہاز کی سیڑھی سے نیچے اترا، ہو ائی اڈہ کا ایک افسر میرے قریب آیا اور سوالیہ انداز میں کہا: "الشیخ وحید الدین" میں نے کہا نعم ۔ اس نے مرحبا کہا اور کہا کہ دکتور سالم عبد اللہ المحمود با ہر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آگے بڑھ کر ہوائی اڈہ کی عمارت میں داخل ہوا۔ تو دوبارہ ہوائی اڈہ کے ایک ذمہ دار آگے بڑھے اور مذکورہ سوال کیا۔ اور پھر ہمارے ساتھ چلنے لگے۔ یہاں تک کہ ہم کو باہر پہنچا دیا جہاں لوگ ہمارے منتظر تھے۔