Al-Risala · May 1984 · page 21

I hope I did not disturb you.

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

18 مارچ کی شام کوریاض ٹیلیویژن پر دو انٹرویو ہوئے۔ دونوں آدھ آدھ گھنٹہ کے تھے۔ جب میں اپنے ساتھی ڈاکٹر محمد مانع الجہنی ( الامین العام المساعد للندوہ العالمیہ للشباب الاسلامی ) کے ساتھ ٹیلی وژن سنٹر پر پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں" ریاض " میں نہیں ہوں بلکہ امریکہ کے کسی انتہائی جدید قسم کے عالیشان دفتر میں ہوں۔ یہ مغرب کا وقت تھا۔ ڈاکٹر مانع الجہنی نے کہا کہ ہم لوگ پہلے نماز پڑھ لیں۔ اس کے بعد، ہم پہلی منزل کے ایک بڑے ہال میں داخل ہوئے تو یہاں مسئلے بچھا ہوا تھا اور بالکل مسجد کا منظر تھا۔ امریکی طرز کی عمارت میں اسلامی طرز کا عبادت خانہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ انٹرویو انگریزی میں تھا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ ڈاکٹر محمد مانع الجہنی سوال کرتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا۔ پہلا انٹرویو زیادہ تر میرے بارہ میں اور المركز الاسلامی کے بارہ میں اور ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں تھا۔ دوسرا انٹرویو زیادہ تر الاسلام تندی کے بارہ میں اور جدید چیلنج اور اسلام کی طرف سے اس کے جواب کے بارہ میں تھا۔

19 مارچ کی شام کو ہم ریاض سے جدہ کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ جہاز (۴۷) جدہ ہوتے ہوئے لندن جا رہا تھا۔ جہاز کی روانگی کے ساتھ اعلانات شروع ہوئے۔ سعودی ایئر لائنز شاید واحد ایئر لائنز ہے جس کے اعلانات بسم اللہ الرحمن الرحیم اور باذن اللہ تعالی جیسے الفاظ کے ساتھ مسافر کے کانوں میں پہنچتے ہیں۔ اس کے بعد خالص عرب لہجہ میں قرآن کی آیات اور سفر کی دعا سنائی گئی۔

20 مارچ کی صبح کو ہم جدہ میں تھے۔ ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف سے ٹیلی فون پر وقت لیا گیا تھا اور انھوں نے مکہ میں 11 بجے دن کا وقت دیا تھا۔ مگر ہم لوگ جدہ میں دیر سے پہنچے اور بظا ہر ممکن معلوم نہیں ہوا کہ ہم لوگ وقت پر مکہ پہنچ کر ان سے مل سکیں گے۔ میں نے جناب حامد الدین صاحب (جامعہ عبدالملک عبدالعزیز ) سے کہا تو انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت اپنے مکان پر ہوں گے۔ اس لئے ابھی ان سے ٹیلی فون کر کے دوسرا وقت مقرر کر لیا جائے۔ یہ نماز فجر کے بعد کا وقت تھا۔ حامد الدین صاحب نے ٹیلی فون لایا تو السلام علیکم کے بعد پہلا جملہ یہ کہا :

I hope I did not disturb you.

ڈاکٹر صاحب، مجھے امید ہے کہ میں نے آپ کو خلل نہیں ڈالا ہوگا ) میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ انداز خطاب تعلیم سے آتا ہے۔ اگر قوم کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے تو قوم کے تمام مسائل اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ کیوں کہ تعلیم قوم کے افراد کو مہذب بھی بناتی ہے اور باشعور بھی۔

اس کے مطابق شام کو نماز عصر کے بعد ڈاکٹر عبداللہ نصیف سے ان کی قیام گاہ (جدہ ) پر ملاقات ہوئی۔ نہایت خندہ پیشانی سے ملے اور اسلامی مرکز کی سرگرمیوں کے بارہ معلومات کرتے رہے۔ انھوں نے خواہش

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page