Al-Risala · May 1984 · page 28

ناموافق حالات

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۸

ناموافق حالات

سر والٹر اسکاٹ (۱۸۳۲ء-۱۷۷۱ء) کا شمار انگریزی ادب کے نامور افراد میں ہوتا ہے۔ مگر اس کو یہ مقام معمولی حیثیت کی قیمت میں ملا۔ اس کی معمولی حیثیت اس کے لئے وہ زینہ بن گئی جس پر چڑھ کر وہ اعلیٰ درجہ کو پہنچے۔

والٹر اسکاٹ اپنی ادھیڑ عمر تک ایک معمولی صلاحیت کا انسان سمجھا جاتا تھا۔ اس کی حیثیت بس ایک تیسرے درجہ کے شاعر کی تھی۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ اس کے اوپر قرضوں کا بوجھ لد گیا۔ اس کی شاعری اس کو اتنی آمدنی نہ دے سکی جس سے وہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کر سکے۔ بالآخر اس کے حالات نہایت شدید ہو گئے۔ شدید حالات نے اس کی شخصیت کو آخر حد تک جھنجھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ والٹر اسکاٹ کے اندر سے ایک نیا انسان ابھر آیا۔ اس کی ذہنی پرواز نے کام کا نیا میدان تلاش کر لیا۔

اب اس نے نئی نئی کتابیں پڑھیں یہاں تک کہ اس پر کھلا کہ وہ محبت کی تاریخی داستانیں لکھے۔ چنانچہ اس نے محبت کی تاریخی داستانوں کو ناول کے انداز میں قلم بند کرنا شروع کر دیا۔

قرض کی ادائیگی کے جذبہ نے اس کو ابھارا کہ وہ اس میدان میں زبردست محنت کرے۔ اس نے کئی سال تک اس راہ میں اپنی ساری طاقت صرف کر دی. اس کو اپنی کہانی بازار میں اچھی قیمت میں فروخت کرنی تھی اور یہ اسی وقت ممکن تھا جب کہ اس کی کہانیاں اتنی جاندار ہوں کہ قارئین کی توجہ اپنی طرف کھینچ سکیں۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ والٹر اسکاٹ کی غیر معمولی محنت اس کی کہانیوں کی مقبولیت کی ضامن بن گئی۔ اس کی لکھی ہوئی کہانیاں اتنی زیادہ فروخت ہوئیں کہ اس کا سارا قرض ادا ہو گیا۔ والٹر اسکاٹ پر اگر یہ آفت نہ آتی تو اس کے اندر وہ زبردست محرک پیدا نہیں ہو سکتا جس نے اس سے وہ کہانیاں لکھوائیں جس نے اس کو انگریزی ادب میں غیر معمولی مقام دے دیا۔ اس کے بعد والٹر اسکاٹ کو سر کے خطاب سے نوازا گیا۔ والٹر اسکاٹ کے لئے قرض کا مسئلہ نہایت جاں گداز مسئلہ تھا۔ لیکن اگر یہ جاں گداز مسئلہ نہ ہوتا تو والٹر اسکاٹ سروالٹر اسکاٹ بھی نہ بنتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page