Al-Risala · May 1984 · page 29

اتحاد کا طریقہ

الرسالہ، مئی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

اتحاد کا طریقہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ قاعدہ ہے کہ باری باری ہر میعاد پر مختلف علاقائی گروہوں (Regional groups) کو صدارت کا موقع دیا جاتا ہے۔ پچھلی میعاد میں لاطینی امریکہ کو صدر مقرر ہونا تھا۔ مگر جب انتخاب کا مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش ہوا تو لاطینی امریکہ کئے ممالک کسی ایک ممبر ملک کی صدارت پر متفق نہ ہوسکے۔ نتیجہ یہ ہوا ۱۵۸ ممبران کی پوری اسمبلی سے ووٹ لیا گیا اور عمومی ووٹوں کی کثرت سے اس کا فیصلہ کیا گیا۔ یہی صورت اکثر حالات میں پیش آتی ہے۔

موجودہ میعاد میں افریقہ کی باری تھی۔ جب یہ مسئلہ زیر غور آیا تو افریقی ممالک نے اتفاق رائے سے منظور کر لیا کہ زامبیا کے مندوب مسٹر پال لوسا کا (Paul Lusaka) ۳۹ ویں جنرل اسمبلی کے صدر ہوں گے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ۳۹ واں سشن ستمبر ۱۹۸۴ میں شروع ہوگا۔ واضح ہو کہ افریقی ممالک نظریاتی اعتبار سے ایک دوسرے سے کافی مختلف ہیں۔ مثلاً لیبیا پر جوش انقلابی ہے۔ مصر معتدل پالیسی پر عامل ہے۔ موزمبیق میں مارکسی حکومت ہے ۔ زائیر ایک قدامت پرست ملک ہے۔ ان کے درمیان اندرونی معاملات میں کافی اختلافات ہیں۔ اس کے باوجود بین اقوامی انجمن میں انھوں نے نادر اتفاق رائے کا ثبوت دیا ہے۔

یہ انوکھا واقعہ کیسے ظاہر ہوا، اس سلسلے میں نیویارک ٹائمز کے نامہ نگار رچرڈ برنسٹین (Richard Bernstein) نے بعض ڈپلومیٹ کے یہ الفاظ نقل کے ہیں:

African unanimity is only achieved by avoiding potentially contentious issues. افریقی اتحاد رائے صرف اس طرح حاصل کیا گیا ہے کہ انھوں نے اختلافی باتوں کو پس پشت رکھا (ٹائمز آف انڈیا ۲۹ جنوری ۱۹۸۴)

یہی موجودہ دنیا میں اتحاد و اتفاق کا واحد یقینی راستہ ہے۔ انسانوں کی راہیں ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ ہر معاملہ میں تمام لوگ بالکل متفق الرائے ہوجائیں۔ ایسی حالت میں باہمی اتحاد کی صورت صرف یہ ہے کہ اتحاد کی خاطر اختلاف کو بازو میں رکھ دیا جائے ۔ اختلاف کو ختم کر کے اتحاد قائم نہیں ہوتا ۔ اتحاد ہمیشہ صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ کچھ لوگ اپنے اختلاف کو صبر کے خانہ میں ڈالنے پر راضی ہو جائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 1984 All issues

Printed page