Al-Risala · January 1984 · page 23

It is a case of the living envying the dead

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۳

اس ہولناک ایٹمی جنگ سے بچنے کی تدبیر کیا ہے، یہ سوال مذکورہ سائنس دانوں سے ایک نیوز کانفرنس میں پوچھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ سائنسی صداقت فیصلہ کرنے والوں کو پر مجبور کر دینے والی ثابت ہوگی۔

Scientific truth will prove compeling to decision-makers اخبار گار جین (۱۳ نومبر ۱۹۸۳) کے کالم نگار نے بجاطور پر اس کو سادگی کا نظریہ (Naive theory) کہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمی واقفیت اگر روکنے والی ہوتی تو فیصلہ کرنے والوں کو پہلے ہی روک چکی ہوتی۔ مہلک ایٹمی ہتھیار اس واقفیت کے باوجود بنائے گئے ہیں۔ بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ قومی دولت کے بے پناہ ضیاع کے بعد اسی لئے بنائے گئے ہیں کہ ان میں اتنی غیر معمولی ہلاکت کا سامان ہے۔ پھر جب ہلاکت خیزی کا علم ان ہتھیاروں کو بنانے میں مانع نہیں ہوا تو وہ ان کے استعمال میں کیوں مانع ہو جائے گا۔ ایٹمی جنگ سے بچنے کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ خدا کا خوف ہے۔ " فیصلہ کرنے والوں" کو عظیم اور برتر خدا کے خوف کے سوا کوئی اور چیز روکنے والی ثابت نہیں ہوسکتی۔ تمام مفلسانہ سرگرمیاں جو زمین پر جاری ہیں وہ اسی لئے جاری ہیں کہ انسان اس غلط فہمی کا شکار ہو گیا ہے کہ اس کے اوپر کوئی اس سے پوچھنے والا نہیں۔ کوئی اس کے اعمال پر اس کو پکڑنے والا نہیں۔ یہ صرف خدا سے بے خوفی کا نتیجہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو خوف اور دہشت میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔

اگر انسان یہ جان لے کہ حقیقت واقعہ اس کے برعکس ہے۔ انسان خود مختار نہیں بلکہ مسئول ہے، تو وہ اس قسم کی تمام کارروائیوں سے یک لخت رک جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اوپر ایک خدا ہے۔ وہ ہر ایک کے اوپر کامل اختیار رکھتا ہے۔ وہ انسان کی تمام کارروائیوں سے پوری طرح واقف ہے۔ وہ آخر میں ہر ایک کو پکڑے گا اور فساد کرنے والوں کو سخت ترین سزا دے گا، ایسی سزا جس کا سلسلہ ابدی طور پر جاری رہے گا۔ یہی علم انسان کو فساد سے روک سکتا ہے۔

آج جو لوگ مہلک ہتھیاروں کے بنانے میں مشغول ہیں وہ اسی لئے مشغول ہیں کہ انھیں یقین ہے کہ یہ مہلک ہتھیار صرف دوسروں کے خلاف استعمال ہوں گے۔ اگر وہ جان لیں کہ ان کے اوپر ایک اور زبر دست ہستی ہے۔ وہ اتنی طاقت ور ہے کہ ان کے تمام ہتھیاروں کو اکٹھا کر کے خود انھیں کے سروں پر پٹک دے تو وہ فوراً ہم اٹھیں گے اور ایسی تمام سرگرمیوں سے اچانک دست کش ہو جائیں گے۔ خدا کے سامنے جواب دہی کا عقیدہ " ہلاکت " کے مسئلہ کو آدمی کا ذاتی مسئلہ بنا دیتا ہے اور ذاتی مسئلہ سے بڑی کوئی چیز نہیں جو انسان کو کسی عمل سے روکنے والی ثابت ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page