قرآن کا ترجمہ
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۵
قرآن کا ترجمہ
۵ جنوری ۱۹۸۳ء کا واقعہ ہے۔ میں افریقہ کے ایک سفر سے دہلی واپس آ رہا تھا۔ روم میں ایک مستشرق ہمارے جہاز میں سوار ہوئے اور میری سیٹ کی بغل والی سیٹ پر بیٹھے۔ ان کا ذکر میں نے اپنے سفر نامہ مطبوعہ الرسالہ نومبر ۱۹۸۳ء میں کیا ہے۔ اس مستشرق کا نام و پتہ حسب ذیل ہے۔ Dr. J. Oacek, Oriental Department, Charles University, Prague, Czechoslovakia. چیکو سلواکیا کے اس مستشرق نے گفتگو کے دوران بتایا کہ چیکو سلواکیا کے ایک مستشرق نے قرآن کا ترجمہ چیک زبان میں کیا ہے۔ یہ ترجمہ چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق یہ ترجمہ بہت اچھا ہے۔ وہ جب چھپ کر بازار میں آیا تو چند ہفتہ کے اندر اس کے تمام نسخے فروخت ہو گئے۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں دعوتِ اسلام کے کتنے زیادہ مواقع ہیں۔ آج ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو اسلام کا مطالعہ اس کے اصل اور براہِ راست ذرائع سے کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کی مطلوبہ کتابیں ابھی ان کو بہت کم فراہم کی جاسکی ہیں۔ خاص طور پر ضرورت ہے کہ قرآن کا ترجمہ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی زبان میں کیا جائے اور اس کو چھاپ کر بڑے پیمانہ پر ساری دنیا میں پھیلا دیا جائے۔
مگر مسلمانوں کو ابھی اس کام سے بہت کم رغبت ہو سکی ہے۔ جنوبی ہند کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے مجھ سے کہا کہ میرے ایک عیسائی دوست نے قرآن کا ایک ترجمہ خریدا۔ اس کے بعد جب اس عیسائی دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ آپ لوگ عیسائیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ مجھے قرآن کے ترجمہ کی ضرورت تھی تو وہ مشکل سے مجھے اتنی قیمت پر ملا۔ اس کے برعکس عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ اگر میں ٹیلی فون کر دوں کہ مجھے مفت تقسیم کے لئے انجیل کی ضرورت ہے تو چند گھنٹہ کے اندر پانچ ہزار نسخے میرے دفتر میں آجائیں گے۔ سعودی عرب اور بعض دوسرے مسلم ممالک نے موجودہ زمانہ میں یہ اہتمام کیا ہے کہ وہ قرآن کے ترجمے چھاپ کر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر یہ کوششیں اصل ضرورت کے مقابلہ میں ابھی بہت کم ہیں۔ اور ان کا ترجمہ بھی پوری طرح قابلِ اعتماد نہیں۔
مسلمان سچے دین کے حامل ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ خدا کے دین کو اس کے تمام بندوں تک پہنچائیں۔ مگر یہی وہ کام ہے جس سے آج مسلمان سب سے زیادہ دور ہو رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues