چھوڑنے کے لئے
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۶
چھوڑنے کے لئے
برطانی دور حکومت میں ہندوستان کا دارالسلطنت کلکتہ تھا۔ ۱۹۱۱ء میں برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ دارالسلطنت کو کلکتہ سے دہلی منتقل کر دیا جائے۔ انگریز ماہر تعمیرات سر ایڈون لیونس (۱۸۶۹-۱۹۴۴ء) نے نئے دارالسلطنت کا نقشہ بنایا۔ 1913 میں پرانی دہلی کے جنوب میں رائے سینا پہاڑیوں کے علاقہ میں تعمیرات شروع ہوئیں۔ بالآخر وہ عالی شان آبادی وجود میں آئی جس کو نئی دہلی کہا جاتا ہے۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ ساری دنیا میں ایک نئی سیاسی لہر آ چکی تھی۔ یہ قومی تحریکوں کی لہر تھی۔ سیاسی افکار کی دنیا میں نئے انقلابات نے نو آبادیاتی نظام کا جواز ختم کر دیا تھا۔ ہندوستان میں آزادی کی تحریک تیزی سے جڑ پکڑ رہی تھی۔ بظاہر یہ بات کھل چکی تھی کہ ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت اب زیادہ دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔
نئی دہلی کی تعمیر کے بعد اسی زمانہ میں فرانس کے ایک لیڈر نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ جب وہ نئی دہلی آئے اور یہاں نیا تعمیر شدہ عظیم دارالسلطنت دیکھا تو انھوں نے اس پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا: ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ انھوں نے کیسی شاندار دنیا بنائی ہے، صرف اس لئے کہ وہ اسے چھوڑ دیں: What a magnificent world they built to leave یہ کہانی صرف برطانیہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ یہاں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ آرزوؤں اور تمناؤں کو لیے ہوئے دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ اپنی تمام قوتوں کا استعمال کر کے وہ اپنا ایک " شاندار گھر، بناتا ہے۔ مگر عین اس وقت جب کہ اس کی آرزوؤں کا گھر بن کر مکمل ہوتا ہے اچانک موت کا فرشتہ آجاتا ہے اور اس کو اس کی محنتوں سے بنائی ہوئی دنیا سے جدا کر کے وہاں پہنچا دیتا ہے جس کو آرتھر کوئسلر نے نامعلوم ملک Unknown Country کا نام دیا ہے۔
زندگی کی کہانی اگر اتنی ہی ہو تو وہ کیسی عجیب دلمناک کہانی ہے۔ مگر جس طرح دنیا کی ہر چیز اپنے جوڑے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے۔ اسی طرح موجودہ دنیا کا بھی ایک تکمیلی جوڑا ہے۔ اور وہ جوڑا آخرت ہے۔ جو شخص آخرت کو بھولا ہوا ہے اس کی زندگی یقیناً صرف ایک المیہ ہے۔ مگر جو شخص امکان آخرت سے فائدہ اٹھائے اور موجودہ دنیا کے مواقع کو اگلی دنیا کی تعمیر میں صرف کرے۔ اس کے لئے موجودہ دنیا ایک نئی زیادہ کامیاب زندگی کا قیمتی زینہ بن جائے گی۔
آخرت کے بغیر انسان کی زندگی صرف ایک المیہ ہے مگر آخرت کو ملانے کے بعد وہ ایک طربیہ میں بدل جاتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues