Al-Risala · June 1984 · page 2

تقویٰ کی علامت

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۲

تقویٰ کی علامت

قرآن میں قربانی کے جانور کو شعیرہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (الج ، ۳) اگر جانوروں کی قربانی سے سادہ طور پر صرف جانور کی قربانی مراد ہو تو یہاں یہ کہنا بے موقع ہے کہ خدا کو تمہارا ذبح کیا ہوا جانور نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ اسلام میں کچھ چیزیں بطور شعیرہ یا علامت (Symbol) مقرر کی گئی ہیں۔ انھیں میں سے ایک قربانی کا جانور بھی ہے۔ شعیرہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی معنوی حقیقت کے لئے ظاہری علامت کا کام دے۔ مثلاً اللہ تعالی کو یہ مطلوب ہے کہ بندے اپنے مخالف اسلام جذبات کو اللہ کی خاطر ذبح کریں۔ یہ ایک نفسیاتی ذبح ہے اور اس نفسیاتی ذبح کی علامت کے طور پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ آدمی ایک جانور کو ذبح کرے۔

جانور کے ذبح کے وقت آدمی اپنی زبان سے یہ الفاظ ادا کرتا ہے : ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العلمین (میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لئے ہے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور کی قربانی ایک معنوی حقیقت کی ایک ظاہری علامت ہے۔ اسی شخص کی قربانی قربانی ہے جو جانور کو ذبح کرتے ہوئے یہ تصور کرے کہ وہ اپنے پورے وجود کو اللہ کے لئے قربان کر رہا ہے۔ جس کے لئے ذبح کیا ہوا جانور اس کے اپنے جذبات واحساسات کے ذبیحہ کا محسوس پیکر بن جائے۔

روزہ بھی اسی قسم کا ایک شعیرہ (علامت) ہے۔ ترک طعام حقیقۃً ترک معاصی کی علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ غذا آدمی کی ضروریات کی آخری حد ہے۔ روزہ میں غذا کا ترک بندہ کی طرف سے اس بات کا اظہار ہے کہ ــــ خدایا ، دوسری چیزیں تو درکنار ، میں پانی اور کھانا تک کو تیری خاطر چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔

حدیث میں ہے کہ جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو خدا کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پانی چھوڑ دے۔ روزہ کی اصل حقیقت غلط کاری سے بچنا ہے۔ جو شخص غلط کاری کو نہ چھوڑے اور وقتی طور پر صرف کھانا اور پینا چھوڑ دے اس نے گویا علامتی عمل کیا اور اصلی عمل کو چھوڑے رکھا۔ ایسی بے روح چیز کی خدا کو کیا ضرورت۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page