قدرتی مناظر
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۴
قدرتی مناظر
مسٹر یو۔ کے موکھا پادھئے لندن گئے۔ وہاں ان کی ملاقات ایک معمر انگریز سے ہوئی جو پچاس سال پہلے برٹش راج کے زمانہ میں رائل ائیر فورس کے افسر کی حیثیت سے ہندوستان میں مقیم تھا۔ اس نے مسٹر موکھا پادھیائے سے بہت دل چسپی کے ساتھ ہندوستان کے حالات پوچھے ۔ اس نے بتایا کہ اس کا قیام زیادہ تر بمبئی اور پونہ میں تھا۔ اس نے عجیب محویت کے انداز میں بتایا کہ بمبئی اور پونہ کے درمیان ٹرین کا سفر اس کو بہت پسند تھا۔ یہ پوراسفر دریاؤں ، جنگلوں اور قدرت کے مناظر کے درمیان ہوتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں دوبارہ ہندوستان جانا چاہتا ہوں تاکہ ان مناظر کو دیکھ کر خوشی حاصل کروں۔ مزید سوالات کے درمیان مسٹر موکھا پادھیاے نے مذکورہ انگریز کو بتایا کہ اب پونہ پہلے جیسا پونہ نہیں ہے۔ اب وہ پونے کہا جاتا ہے۔ اس کی آبادی دس گنا بڑھ گئی ہے۔ نئی نئی سڑکیں اور روشنیوں کے انتظام نے اس علاقہ میں قدرتی مناظر سے زیادہ شیخی مناظر کا ماحول پیدا کر دیا ہے یہ سن کر اچانک اس انگریز کا سارا شوق ختم ہو گیا۔ اس نے کہا :
No. I don't think I will go to India My India probably does not exist. نہیں ۔ میں نہیں سمجھتا کہ مجھے انڈیا جانا چاہئے ۔ میرا انڈیا یا اب غالباً موجود نہیں (ٹائمس آف انڈیا سٹروکی (۱۹۸۴ مشینی مناظر دیکھنے سے انسان " یاد آتا ہے اور قدرتی مناظر کو دیکھنے سے " خدا " یاد آتا ہے۔ مشینی مناظر میں انسان کی کاریگری کا دھیان آتا ہے اور قدرتی مناظر میں خدا کی کاریگری کا۔ مشینی مناظر انسان کو انسان سے ملاتے ہیں اورت قدرتی مناظر انسان کو خدا سے ملاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشینی مناظر میں انسان کو وہ سکون نہیں ملتا جوت درتی مناظر میں اس کو ملتا ہے ــــــــ ۱۷ بذکر اللہ تطمئن القلوب قدرتی مناظر کیا ہیں۔ وہ خدا کی صفات کا آئینہ ہیں۔ آسمان کی وسعت خدا کی بے پایاں ہستی کا تعارف ہے سورج خدا کے سراپا نور ہونے کا اعلان کر رہا ہے ۔ دریا کی روانی خدا کے جوش رحمت کی گویا ایک تمثیل ہے۔ پھولوں کی مہک اور خوبصورتی خدا کے حسن کی ایک دور کی جھلک ہے۔ اگر دیکھنے والی آنکھ ہو تو اس کو قدرتی مناظر میں خدا کا جلوہ دکھائی دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues