کامیاب سفر
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۵
کامیاب سفر
20جنوری 1984کی صبح کو تھائی ایئرویز کا جہاز (747 Boeing) کراچی سے پیکچپ کی طرف اڑا۔ یہ ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑان کر رہا تھا۔ عین اسی وقت انڈین ایئر لائنز کا ایک جہاز بمبئی سے دہلی کی طرف جانے والا تھا۔ انڈین ائیر لائنز کے جہاز کو بھی ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنا تھا۔ اس کی روانگی ہونے ہی والی تھی کہ عین وقت پر معلوم ہوا کہ تھائی ائیرویز کا جہاز اسی سمت میں آ رہا ہے۔ اگر انڈین ایئر لائنز کا پائلٹ اپنے پروگرام کے مطابق اپنا جہاز اڑاتا تو منڈسور ( مدھیہ پردیش) کے اوپر دونوں کا ٹکراؤ ہو جاتا۔ تھائی ایئر ویز کا جہاز بھی اپنے تمام مسافروں کے ساتھ برباد ہو جاتا اور انڈین ایئر لائنز کا جہاز بھی (ٹائمز آف انڈیا ۲۵ جنوری 1984)
ایئر ٹرافک کنٹرول کو بالکل آخری وقت میں اس کی اطلاع مل سکی۔ اس نے فوراً انڈین ایئر لائنز کے کیپٹن سے کہا کہ تم یا تھائی ائیرویز کے جہاز سے نیچے (۲۵ ہزار فٹ) کی بلندی پر اڑان کرو یا اگر تم ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر اپنا جہاز اڑانا چاہتے ہو تو پچیس منٹ دیر سے اڑان شروع کرو۔ انڈین ائیر لائنز کے کیپٹن نے دوسری تجویز کو پسند کیا اور پچیس منٹ کی دیر کے بعد اپنا جہاز اڑایا۔ اس طرح دو جہاز بین فضائی ٹکراؤ (Mid-air collision) سے بچ گئے۔ انڈین ائیر لائنز کا جہاز اپنے ابتدائی پروگرام کے مطابق منڈسور کے اوپر سے صبح سات بجے گذرتا، مگر پروگرام کی تبدیلی کے بعد وہ منڈسور کے اوپر سے صبح ساڑھے سات بجے گزرا۔
انڈین ایرلائنز کے ایک افسر نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معجزہ تھا جس نے دونوں جہازوں کے مسافروں کو بچا لیا ۔
It was a miracle which saved passengers on both aircrafts. یہی وسیع تر اعتبار سے زندگی کا معاملہ بھی ہے۔ اگر آپ ” ۲۹ ہزار فٹ“ کی بلندی پر اڑنا چاہتے ہیں تو اس کو نہ بھولئے کہ یہاں دوسرے لوگ بھی ہیں اور وہ بھی ۲۹ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑان کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ کے لئے دو ہی صورت ہے۔ یا تو دوسروں کا لحاظ کئے بغیر اپنی اڑان شروع کر دیں اور پھر تباہ ہو کر جھوٹی قربانی کی مثال قائم کریں۔ یا پھر یہ ” معجزہ “ دکھائیں کہ دوسرے سے نیچے اڑ کر آگے نکل جائیں یا ” آدھ گھنٹہ کی تاخیر سے اپنی اڑان شروع کریں۔ دونوں صورتوں میں آپ کامیاب رہیں گے اور حفاظت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues