Al-Risala · June 1984 · page 6

پچپن سال کے بعد

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۶

پچپن سال کے بعد

طبیہ کالج (قرول باغ ، دہلی) نے ایک بار رات کی کلاسیں شروع کی تھیں تاملتاکہ۔ ۔۔ ملازمت پیشہ لوگ اس میں داخلہ لے کر طبی کورس کریں اور اپنے خالی اوقات میں پریکٹس کر سکیں۔ انھیں داخلہ لینے والوں میں سے ایک مسٹر رمیش دتہ تھے۔ وہ اکاؤنٹ آفس میں کام کرتے تھے اور اسی کے ساتھ رات کے کلاس میں شریک ہو کر بی آئی ایم ایس (B.I.M.S) کا کورس کر رہے تھے۔ ۱۹۵۵ کا واقعہ ہے ، ان کے استاد ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے ایک بار ان سے پوچھا : دتہ جی، آپ تو ایک اچھی ملازمت میں ہیں۔ پھر آپ بی آئی ایم ایس کا کورس کیوں کر رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا :

” نوکری پچپن سال کی ہے اور زندگی سو سال کی۔ پھر نوکری سے ریٹائر ہونے کے بعد کیا کروں گا۔ “ کہنے والے نے زندگی کی جو تقسیم موجودہ دنیا کے اعتبار سے کی ہے وہی تقسیم وسیع تر معنوں میں دنیا اور آخرت کے اعتبار سے ہے۔ دنیا میں انسان کی عمر کو اگر پچپن سال سمجھیں اور آخرت کی طویل تر زندگی کو علامتی طور پر سو سال سمجھیں تو معلوم ہوگا کہ ہر آدمی وسیع تر معنوں میں اسی سوال سے دوچار ہے۔ تاہم ہر آدمی کو صرف ”۵۵“ سال کی فکر ہے ، کسی کو اپنے ”سوسال“ کے بارہ میں کوئی پریشانی نہیں۔

دنیا کی ” ۵۵ سالہ “ زندگی کے لئے ہر آدمی سرگرم ہے۔ ہر آدمی اپنی ساری طاقت خرچ کرکے اس کی تعمیر میں لگا ہوا ہے۔ اس معاملہ میں ہر آدمی اتنا زیادہ سنجیدہ ہے کہ وہ فوراً اس کے نشیب و فراز کو سمجھ لیتا ہے۔ وہ اس کے کسی موقع کو کھونا کسی حال میں گوارا نہیں کرتا۔

دوسری طرف ” سو سالہ “ زندگی جو موت کے بعد شروع ہوتی ہے ، اس کی کسی کو پروا نہیں۔ اس معاملہ میں آدمی نہ کچھ سوچنے کی ضرورت محسوس کرتا اور نہ کچھ کرنے کی ۔ یہاں کوئی یہ کہنے والا نہیں کہ ۔ موت سے پہلے کی زندگی تو صرف ” ۵۵ سال “ کی ہے اور موت کے بعد کی زندگی ” سو سال “ کی۔ پھر اگر ابھی سے میں نے تیاری نہ کی تو موت کے بعد کی ” سو سالہ زندگی “ میں میں کیا کروں گا۔ کیسا عجیب ہے وہ انسان جو تھوڑی زندگی کے لئے تو بہت زیادہ کر رہا ہے مگر زیادہ زندگی کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار نہیں ( ۲۶ جنوری ۱۹۸۴)

غالباً یہی صورت حال ہے جس کی طرف حدیث میں الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ میں نے جہنم سے زیادہ سخت چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا سو گیا ہو۔ اور میں نے جنت سے زیادہ قیمتی چیز نہیں دیکھی جس کا چاہنے والا سو گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page