Al-Risala · June 1984 · page 8

دعوتی ذہن

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۸

دعوتی ذہن

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ - ۶۲ ھ) کی سلطنت کے حدود سندھ اور بخارا سے لے کر مراکش اور اندلس تک بلکہ فرانس تک پہنچے ہوئے تھے۔ مگر آپ کے اندر ذرا بھی عیش اور گھمنڈ تھا۔ آپ نے خلافت کا کام اتنے عادلانہ انداز سے چلایا کہ مفتوحہ ممالک میں بے شمار لوگ مسلمان ہو گئے۔ آپ کے زمانہ میں جراح بن عبد اللہ خراسان کا گورنر تھا۔ اس کے متعلق آپ کو خبر پہنچی کہ ذمیوں میں سے جو لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں ان سے بھی وہ جز وصول کرتا ہے۔ آپ نے یہ شکایت سن کر جراح بن عبداللہ کے پاس حکم بھیجا کہ " جو شخص نماز پڑھتا ہو اس سے جزیہ نہ لو۔ "

لوگوں کو جب اس کی خبر معلوم ہوئی تو لوگ تیزی سے اسلام میں داخل ہونے لگے۔ جراح بن عبداللہ کو خیال ہوا کہ یہ لوگ دل سے اسلام قبول نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ صرف جزیہ سے بچنے کے لئے اسلام کا کلمہ پڑھ لیتے ہیں۔ چنانچہ اس نے ختنہ کے ذریعہ لوگوں کا امتحان لینا شروع کیا۔ اس نے اعلان کیا کہ جس شخص نے خفتہ کر لیا ہو صرف وہی مسلمان سمجھا جائے گا۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے مذکورہ گورنر کو دوبارہ لکھا :

اللہ نے اپنے پیغمبر کو داعی بنا کر بھیجا ہے، خاتن بنا کر نہیں بھیجا۔

اسی طرح ایک گورنر نے آپ سے یہ شکایت کی کہ مفتوحہ ممالک میں لوگ کثرت سے اسلام قبول کر رہے ہیں۔ چونکہ اسلام کے بعد جزیہ یہ ساقط ہو جاتا ہے۔ اس لئے لوگوں کے کثرت اسلام سے مملکت کا مالیہ بہت کم ہو گیا ہے۔ یہی حالت رہی تو خزانہ نہ خالی ہو جائے گا۔ آپ نے گورنر کو لکھا کہ تمہاری خرابی ہو، محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہادی بنا کر بھیجے گئے، وہ ٹیکس وصول کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے ( و بعث ان محمد ا صلی اللہ علیہ وسلم بعث ہاديا و لم يُبعث جابيا )

آدمی کا رویہ ہمیشہ اس لحاظ سے بنتا ہے کہ اس کے سامنے جو مقصد ہے وہ کیا ہے۔ ایک مسلم حکمراں کا مقصد اگر طاقت اور دولت ہو تو وہ اسلامی دعوت کے کام کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ وہ ہر چیز کو اس لحاظ سے دیکھے گا کہ اس سے طاقت اور قوت بڑھانے میں کیا مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس حکمراں اگر دعوتی ذہن رکھتا ہو تو وہ دوسرے مفادات کو کوئی اہمیت نہیں دے گا۔ وہ ہر دوسرے نقصان کو گوارا کر لے گا مگر دعوت میں کسی بھی قسم کے نقصان کو گوارا نہیں کرے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page