Al-Risala · June 1984 · page 9

ہر معاملہ خدا کا معاملہ

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۹

ہر معاملہ خدا کا معاملہ

ابو مسعود انصاری مدینہ کے ایک مسلمان تھے۔ ایک روز وہ کسی بات پر اپنے غلام سے بگڑ گئے اور اس کو ڈنڈے سے مارنے لگے۔ عین اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گذر ہوا۔ آپ نے دیکھ کر فرمایا کہ اے ابو مسعود، جان لو کہ خدا تمہارے اوپر اس سے زیادہ قابو رکھتا ہے جتنا تم اس غلام پرقابو رکھتے ہو (اعلم ابا مسعود لله اقدر عليك منك عليه) یہ سنتے ہی ابو مسعود کے ہاتھ سے ڈنڈا چھوٹ کر گر گیا۔ اور انھوں نے کہا کہ آج سے یہ غلام آزاد ہے۔

ابو مسعود پہلے معاملہ کو ایک انسان اور دوسرے انسان کا معاملہ سمجھتے تھے۔ اس وقت انھیں نظر آتا تھا کہ وہ مالک ہیں اور دوسرا آدمی غلام۔ اپنی ذات انھیں اونچی سطح پر نظر آئی اور غلام کی ذات نیچی سطح پر۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ کے بعد انھیں نظر آیا کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ اب انھیں اپنا وجود بھی وہیں پڑا ہوا نظر آیا جہاں وہ اپنے غلام کو بٹھائے ہوئے تھے۔ دونوں یکساں طور پر خدا کے آگے عاجز نظر آئے۔ یہی وجہ تھی کہ اٹھا ہوا ڈنڈا ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا۔

حقیقت یہ ہے کہ سماجی زندگی کی تمام خرابیاں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی معاملہ کو انسان کی نسبت سے دیکھتا ہے نہ کہ خدا کی نسبت سے۔ ایک آدمی کو دولت مل جائے تو وہ ان لوگوں کے مقابلہ میں اپنے کو اونچا سمجھنے لگتا ہے جن کے پاس دولت نہیں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کو نظر آئے گا کہ وہ بھی اتنا ہی مفلس ہے جتنا کوئی دوسرا شخص۔ کسی آدمی کو بڑا عہدہ مل جائے تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں تمام لوگوں سے بڑا ہوں۔ حالانکہ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو وہ پائے گا کہ وہ بھی اتنا ہی حقیر ہے جتنا کہ دوسرے لوگ۔ ایک آدمی تیز ہے اور دوسرے کے خلاف زبان چلا رہا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ اپنے مقابلہ میں وہ اس کو کمتر سمجھ رہا ہے۔ اگر وہ خدا کی نسبت سے دیکھے تو اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے کیوں کہ خدا کی نسبت سے وہ بھی اتنا ہی بے زور ہے جتنا کہ دوسرا آدمی۔

لوگ اگر معاملات کو ایک انسان اور دوسرے انسان کا معاملہ نہ سمجھیں بلکہ ایسا معاملہ سمجھیں جو بالآخر خدا کے سامنے پیش ہونے والا ہے تو ہر قسم کی برائی کی جڑ کٹ جائے ۔ کسی کے لیے گھمنڈ، حسد، جاہ پسندی اور بے انصافی کا موقع باقی نہ رہے۔

اس کے بعد ہر آدمی کے ہاتھ سے اس کا ڈنڈا اسی طرح چھوٹ کر گر پڑے جس طرح حضرت ابو مسعود انصاری کے ہاتھ سے ان کا ڈنڈا چھوٹ کر گر پڑا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page