اطاعت
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۰
اطاعت
غزوہ موتہ، ہجرت کے آٹھویں سال پیش آیا۔ محمد بن جریر الطبری (۳۱۰-۲۲۷ھ) نے اپنی کتاب تاریخ الرسل والملوک میں غزوہ موتہ کے ذیل میں لکھا ہے: حدثنا ابوقتادة فارس رسول اللہ صلی اللہ حضرت ابوقتا دہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم، قال بعث رسول اللہ جیش الامراء صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کے لئے لشکر بھیجا۔ آپ فقال: علیکم زید بن حارثة فان اصیب نے کہا کہ زید بن حارثہ تمہارے سردار ہیں فجعفر بن ابی طالب، فان اصیب جعفر وہ شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب سردار فعبد اللہ بن رواحة ۔ فوثب جعفر فقال ہوں گے۔ اور اگر جعفر شہید ہو جائیں تو عبد اللہ بن یا رسول اللہ ما كنت اذھب ان تستعمل رواحہ سردار ہوں گے۔ یہ سن کر جعفر جھپٹ زیدا علی ۔ قال امض، فانك لا تدری کر اٹھے اور کہا کہ اے خدا کے رسول، میں ایسے اتى ذلك خير۔ فانطلقوا۔ لشکر میں نہیں جاؤں گا جس میں آپ نے زید کو میرے اوپر سردار بنایا ہو۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ، کیوں کہ تم نہیں جانتے کہ اس میں سے کیا زیادہ بہتر ہے۔ پھر لوگ روانہ ہوئے مومن فرشتہ نہیں ہوتا۔ مومن بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ غیر مومن کے دل میں کوئی غلط خیال یا انحراف کی بات آ جائے تو اس کے بغدوہ رکنا نہیں جانتا۔ وہ اپنے اسی خیال پر چل پڑتا ہے، خواہ اس کی غلطی اس پر کتنی ہی زیادہ واضح کی جائے۔ وہ دلیل کی پیروی نہیں کرتا، بلکہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے۔
اس کے برعکس سچے مومن کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو اس کی غلطی پر ٹوکا جائے اور اس کے انحراف پر اسے متنبہ کیا جائے تو وہ فوراً رک جاتا ہے۔ وہ اپنے خیال کو اپنا عمل نہیں بناتا۔ وہ اپنی رائے پر اصرار نہیں کرتا۔ وہ ہر وقت اپنی اصلاح کے لئے تیار رہتا ہے، خواہ اصلاح کی خاطر اس کو اپنی خواہش کے خلاف چلنا پڑے۔
مومن حق کا پابند ہوتا ہے اور غیر مومن صرف اپنے نفس کا پابند۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues