عقیدہ آخرت
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴
عقیدہ آخرت
جب بارش ہوتی ہے تو اس کا پانی دریاؤں میں بہہ نکلتا ہے۔ یہ پانی اگر حد کے اندر ہو تو اس سے انسان کو مختلف قسم کے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر حد سے بڑھ جائے تو سیلاب آجاتا ہے اور نقصانات کا باعث ہوتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے دریاؤں پر بند بنائے جاتے ہیں۔ بند (Dam) کا مقصد یہ ہے کہ دریا کے اندر پانی کے بہاؤ پر روک قائم کی جائے اور جب بھی پانی حد سے بڑھتا ہوا نظر آئے تو اس کے رخ کو موڑ کر دوسری طرف کر دیا جائے تاکہ وہ دریا میں بہنے کے بجائے علیحدہ بنے ہوئے عظیم گڑھے میں پہنچ جائے جس کو عام طور پر ذخیرہ آب (Reservoir) کہا جاتا ہے۔
ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کا بھی ہے۔ مختلف انسان جب مل جل کر رہتے ہیں تو بار بار شکایت کی باتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف دلوں میں تلخیاں ابھرتی ہیں۔ اگر اس شکایت اور تلخی کو بڑھنے دیا جائے تو اختلاف، باہمی عناد اور جنگ ومقابلہ کی نوبت آ جاتی ہے۔ انسانی معاشرہ یا انسانی جماعت کا درست طور پر کام کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں انسان کے لئے بھی ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جس کی طرف اس کے بڑھے ہوئے منفی جذبات کو موڑا جا سکے۔ خدا اور آخرت کا عقیدہ یہی کام کرتا ہے۔ وہ اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والے جذبات کو انسان سے ہٹا کر خدا کی طرف موڑ دیتا ہے۔ حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے آپ کو باپ سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد آپ کے دوسرے بھائی بن یامین کے ساتھ بھی یہی حادثہ پیش آیا۔ ان واقعات کے بعد قدرتی طور پر حضرت یوسف کے والد حضرت یعقوب کے اندر شدید جذبات پیدا ہوئے۔ آپ اپنے ان جذبات کا نشانہ اگر حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں کو بناتے تو زبردست انتشار اور اختلاف پیدا ہوتا۔ مگر آپ نے سارے جذبات کو خدا کی طرف موڑ دیا۔ آپ نے فرمایا انما اشکو ابثی وحزنی الى الله کسی انسانی معاشرہ کے لئے عقیدہ آخرت کی بہت بڑی دین ہے۔ آخرت کا عقیدہ ہر آدمی کے پاس ایک Diversion pool رکھ دیتا ہے جس کی طرف وہ اپنے جذبات کے سیلاب کو پھیر سکے۔ اس کو نقصان ہو تو خدا سے حسن تلافی کی امید قائم کرلے۔ اس کو غصہ آئے تو خدا کی خاطر وہ اپنے غصہ کو پی جائے۔ اس کو کسی سے شکایت ہو تو اس کے معاملہ کو خدا کے حوالے کر دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues