Al-Risala · June 1984 · page 15

الفاظ ختم نہیں ہوئے

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۱۵

الفاظ ختم نہیں ہوئے

الرساله اپریل ۱۹۸۴ ( آخری سفر ) کے بارہ میں ہم کو کئی خطوط ملے ہیں جن میں شکایت کی گئی ہے کہ اس شمارہ میں ” کچھ مضامین دوبارہ چھاپ دئے گئے ہیں ، ایسے لوگوں سے ہم کہیں گے کہ آپ نے ابھی اس شمارہ کو نہیں پڑھا۔ اگر آپ واقعہ اس کو پڑھتے تو آپ کے ہوش و حواس گم ہو جاتے۔ اس شمارہ میں زندگی کے جس انتہائی سنگین مسئلہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ اگر انسان کی سمجھ میں آ جائے تو اس کے اوپر ایسی سراسیمگی طاری ہو کہ اس کو یہ یاد ہی نہ رہے کہ کون سا مضمون پہلی بار چھپا ہے اور کون سا مضمون دوسری بار۔ کون سی بات پہلے کہی جا چکی تھی اور کون سی بات دوبارہ کہی جا رہی ہے۔

اگر آپ راستہ چل رہے ہوں اور اچانک کوئی شخص چیخ کر کہے ” ’’تمہارے آگے سانپ ہے سانپ ،، تو کیا اس وقت آپ کو یہ ہوش رہے گا کہ آپ اس شخص سے بحث کریں کہ تم نے سانپ کا لفظ دو بار کیوں کہا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگوں کی بے خبری ہے جس نے انھیں تکرار اور ریے تکرار جیسی باتوں میں مشغول کر رکھا ہے۔ اگر انھیں خبر ہو جائے تو ” تکرار ،، کا لفظ وہ اس طرح بھول جائیں جیسے کہ انھوں نے کبھی اس لفظ کو جانا ہی نہ تھا۔

ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ الرسالہ کے قارئین میں ایسے لوگ بھی ہیں جو واقعہ اس کو پڑھتے ہیں۔ اور اس سے وہ اثر لیتے ہیں جو انھیں لینا چاہئے۔ چنانچہ اگر ہم کو ایک طرف مذکورہ بالا قسم کے خطوط ملے ہیں تو اسی کے ساتھ ہم کو دوسری قسم کے خطوط بھی موصول ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر الرسالہ کے ایک پرانے خریدار اپنے خط مورخہ ۶ اپریل ۱۹۸۴ میں آکولہ سے لکھتے ہیں ؛

” اپریل کا پرچہ ( آخری سفر ) ملا۔ پڑھ کر ہوش و حواس گم ہو گئے۔ واقعی اللہ نے آپ کے قلم میں جادو کا اثر رکھا ہے۔ رسالہ پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ رسالہ کی تعریف کے لئے تو میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ صرف دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھ نصیب فرمائے اور آپ کے قلم میں دلوں کو پلٹ دینے کی تاثیر کدہ دیں ؛

آہ ، لوگوں کو اپنے ” آخری سفر ،، کی ہولنا کی کا اندازہ نہیں۔ اگر انھیں اس کا اندازہ ہو تو ان کی زبان بند ہو جائے ۔ حتیٰ کہ ان کے پاس یہ کہنے کے لئے الفاظ نہ رہیں کہ تم نے چھپے ہوئے مضمون کو دوبار ہ چھاپ دیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page