دوِ جدید میں اسلامی دعوت
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
دوِ جدید میں اسلامی دعوت
موجودہ زما میں ایک عجیب رجحان یہ پیدا ہوا ہے کہہ مسلمان اپنی قومی جدوجہد کے لیے جو کچھ کر رہے ہیں ان سب کو آجکل ’’اسلامی دعوت ‘‘ کہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ اس لفظ کا بالکل غلط استعمال ہے۔ دعوت (دعوت الی اللہ) حقیقۃً غیرمسلم اقوام تک خدا کے سچے دین کا پیغام پہنچانے کا عنوان ہے۔ یہ پیغمبر کی وراثت ہے جو ختم نبوت کے بعد مسلمانوں کے حصہ میں آئی ہے۔ اس لفظ کو اپنی قومی جدوجہد کے لئے استعمال کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے ، کجا کہ اس کی وجہ سے خدا کی موعود نصرتیں ہما رے اوپر نازل ہوں۔
امت مسلمہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں دعوت الی اللہ کے کام سے وابستہ کر دی ہیں۔ ایک طرف قرآن کے مطابق دعوت الی اللہ میں عصمت من الناس کا راز چھپا ہوا ہے (المائدہ ۶۷) دوسری طرف یہی وہ کام ہے جس کی ادائیگی کے نتیجہ میں اہل ایمان آخرت میں خدا کی گواہی کے بلند مقام پر کھڑے کئے جائیں گے جس کو قرآن میں اصحابِ اعراف (الاعراف ۴۶) کہا گیا ہے۔ یہ آخرت کا سب سے بڑا اعزاز ہے جو داعیانِ حق کو دیا جائے گا۔
تاہم دعوت الی اللہ کا کام کوئی سادہ یا آسان کام نہیں۔ یہ رسول اور اصحابِ رسول کی تاریخ کو از سرِ نو دہرانا ہے۔ یہ خدا کے بندوں کے سامنے خدا کا نمائندہ بننا ہے۔ یہ دنیا میں خدا کی حمد اور کبریا ئی کا نغمہ چھیڑنا ہے۔ یہ غیبی حقیقت کو لوگوں کے لئے مشہود حقیقت بنانا ہے۔ جو کچھ اس سے پہلے پیغمبر انہ سطح پر ہوتا رہا ہے اس کو غیر پیغمبر انہ سطح پر انجام دینا ہے۔ دعوت کی اصل نوعیت آدمی کے سامنے نہ ہو تو وہ دعوت کے نام پر ایک ایسا کام کرے گا جس کا دعوت سے کوئی تعلق نہیں۔
عالمی فضا کی تبدیلی
اس سلسلہ میں پہلی بات جس کو جاننا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ وہ کون سے حالات ہیں جن کے درمیان ہم کو دعوت حق کا کام انجام دینا ہے۔ مختصر لفظوں میں اس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے اسلاف کے لئے دعوت الی اللہ کا مطلب دورِ شرک کو ختم کرنا نہ تھا۔ اب ہمارے لئے دعوت الی اللہ کا مطلب دورِ الحاد کو ختم کرنا ہے۔ ہمارے اسلاف دورِ شرک کو ختم کر کے دورِ توحید لے آئے۔ اس کے بعد دنیا میں ایک نئی تاریخ وجود میں آئی۔ یہ تاریخ ہزار سال تک کامیابی کے ساتھ چلتی رہی۔ یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی میں مغربی سائنس کا ظہور ہوا۔ اس کے بعد دنیا کی ایک نئی تاریخ بنناشروع ہوئی۔ بیسویں صدی میں اگر چہ تاریخ اپنے کمال پر پہنچ گئی ہے۔ اب دوبارہ یہ حال ہو گیا ہے کہ ظہور ر
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues