Al-Risala · June 1984 · page 32

سب سے زیادہ خطر ناک

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲

اندر اتفاق واتحاد کے اسباب پرورش پاتے ہیں۔ اسلام کے اساسی اور اتفاقی امور لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ اسلام کے فروعی مسائل کو لے کر اٹھتے تو مسلمانوں کے اندر اختلافات جنم لیں گے ۔ اس کے برعکس اسلام کے بنیادی مسائل کو لے کر اٹھتے تو لوگوں کے ذہن زیادہ سے زیادہ متفق علیہ امور پر کام کریں گے۔ ملت کے اندر اختلاف کی جڑ کٹے گی اور ہر طرف اتحاد کی فضا وجود میں آئے گی ۔ فروعی مسائل اختلاف کا ماحول پیدا کرتے ہیں اور بنیادی مسائل اتفاق کا ماحول۔ انسانوں کے درمیان ہمیشہ اختلافات موجود رہتے ہیں۔ چنانچہ اتحاد جب کبھی وجود میں آتا ہے تو وہ اس طرح وجود میں نہیں آتا کہ لوگوں میں سرے سے کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔ " اختلاف کے باوجود متحد ہونا ،، بظاہر ایک لفظ ہے ۔ مگر یہ سب سے بڑی قربانی ہے جو موجودہ دنیا میں کوئی آدمی پیش کرتا ہے۔ اس قربانی کے لئے وہ فیاضی درکار ہے جب کہ آدمی دوسرے کے فائدہ کی خاطر اپنے نقصان کو برداشت کرلے۔ اس کے لئے وہ بلند ہمتی درکار ہے جب کہ ذاتی شکایت کے باوجود وہ دوسرے کے فضل و کمال کا اعتراف کر سکے۔ اس کے لئے وہ بے نفسی درکار ہے جب کہ آدمی دوسرے کے مقابلہ میں اپنے کو چھوٹا ہوتا ہوا دیکھے، پھر بھی وہ منفی نفسیات کا شکار نہ ہو۔ اس کے لئے وہ اعلیٰ ظرفی درکار ہے جب کہ آدمی اپنی رائے کو بطور خود اہم سمجھتے ہوئے دوسرے کی رائے کے مقابلہ میں اس کو واپس لے لے ۔ اس کے لئے وہ حوصلہ درکار ہے جب کہ آدمی دوسرے کو اگلی سیٹ پر بٹھا کر خود پچھلی سیٹ پر بیٹھنے کے لئے راضی ہوجائے۔

اجتماعی اتحاد فرد کی سب سے بڑی قربانی ہے۔ آدمی کسی چیز کو اس وقت چھوڑتا ہے جب کہ اس کو اس سے بڑی کوئی چیز مل جائے۔ دعوت الی اللہ کا مشن یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ دعوت و شہادت گویا موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی ہے۔ آخرت میں سب سے بڑا انعام داعیان حق کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑا کوئی کام اس دنیا میں نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دعوت میں مصروف ہونے والے لوگ اس عظیم قربانی کے لئے تیار ہو جاتے ہیں جو کسی اور طریقہ سے ممکن نہیں۔ دعوت الی اللہ کا مشن کسی انسان کے لئے سب سے بڑی چیز ہے۔ اس کے مقابلہ میں تمام چیزیں چھوٹی ہیں۔ ملت کے موجودہ اختلافات اسی لئے ہیں کہ ملت کے افراد کے سامنے کوئی بڑا مقصد نہیں۔ اگر ان کے سامنے بڑا مقصد آجائے تو وہ خود بخود چھوٹی چھوٹی چیزوں کو چھوڑنے پر راضی ہو جائیں گے۔ اور بلاشبہ بڑے مقصد کی خاطر چھوٹی چیزوں کو چھوڑنے کے نتیجہ ہی کا دوسرا نام اتحاد ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page