Al-Risala · June 1984 · page 36

لٹریچر کی تیاری

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶

پوری قوت کے ساتھ ہونے لگا۔ جنگی میدان میں اس وقت اسلام کمزور تھا۔ مگر جب مقابلہ پر امن تبلیغ کے میدان میں آگیا تو یہاں شرک کے پاس کچھ نہ تھا جس سے وہ توحید کی حقانیت کا مقابلہ کر سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے قبائل اتنی کثرت سے اسلام میں داخل ہوئے کہ کفر کا زور بالکل ٹوٹ گیا اور معاہدہ کے صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا۔

موجودہ زمانہ میں بھی اسی طرح کے ایک "معاہدہ حدیبیہ" کی ضرورت ہے۔ مسلمان دوسری قوموں سے ہر جگہ مادی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ مسلمان چونکہ اپنی غفلت کی وجہ سے مادی پہلو سے دوسری قوموں کے مقابلہ میں بہت پیچھے ہو گئے ہیں، وہ ہر محاذ پر ان سے شکست کھا رہے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ایک طرفہ قربانی کے ذریعے ان محاذوں کو بند کر کے میدانِ مقابلہ کو بدل دیا جائے۔ ان قوموں کو مادی مقابلہ کے میدان سے ہٹا کر فکری مقابلہ کے میدان میں لایا جائے۔ قدیم زمانہ میں میدانِ مقابلہ کی یہ تبدیلی جنگ کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل کی گئی تھی، آج یہ تبدیلی قومی حقوق کی مہم کو یک طرفہ طور پر ختم کر کے حاصل ہوگی۔ قومی مفادات کی یہ قربانی بلا شبہ ایک نہایت مشکل کام ہے مگر اسی کھونے میں پانے کا سارا راز چھپا ہوا ہے۔ مسلمان جس دن ایسا کریں گے اسی دن فتحِ اسلام کا آغاز ہو جائے گا۔ کیوں کہ فکری میدان میں کسی اور کے پاس کوئی چیز موجود ہی نہیں۔ مادی مقابلہ کے میدان میں مسلمانوں کے پاس "روایتی ہتھیار" ہیں اور دوسری قوموں کے پاس "جدید ہتھیار"۔ جب کہ فکری میدان میں مسلمانوں کے پاس حقیقت ہے اور دوسری قوموں کے پاس تعصب ، اور حقیقت کے مقابلہ میں تعصب دیر تک ٹھہر نہیں سکتا۔

لٹریچر کی تیاری

قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا نے قلم کے ذریعہ انسان کو تعلیم دی (علّم بالقلم، العلق) اس سے اسلامی دعوت کے لئے لٹریچر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

مگر اسلامی لٹریچر کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام کے نام پر کچھ کتابیں لکھی جائیں اور ان کو کسی بھی طرح مختلف زبانوں میں چھاپ کر تقسیم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی لٹریچر کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، یہ بشری سطح پر قرآن کا بدل فراہم کرنا ہے۔

خدا نے اپنا کلام عربی زبان میں اتارا ہے۔ مگر اس کی تبلیغ دوسری زبان والوں تک بھی کرنی ہے ، اور جیسا کہ ثابت ہے، مدعو کی اپنی زبان میں کرنی ہے (ابراہيم هم) اس لحاظ سے اگر علم بالقلم کو وقتی نہ سمجھا جائے بلکہ اس کو ابدی پس منظر (Perspective) میں رکھ کر دیکھا جائے تویقینی طور پر انسان بھی اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ دوسری زبانوں میں تعلیم بالقلم کا فریضہ انسان ہی کو ادا کرنا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page