Al-Risala · June 1984 · page 37

لٹریچر کی تیاری

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۳۷

گویا یہ نا صحیح ہوگا کہ خدا عربی زبان میں معلم بالقلم بنا تھا، اب ہم کو دوسری زبانوں میں معلم بالقلم بنائے۔ مشہور عرب شاعر لبید نے قرآن کو سن کر شاعری چھوڑ دی۔ کسی نے کہا کہ تم اب شاعری کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا، کیا قرآن کے بعد بھی (باعد القرآن) اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن نے اپنے زمانہ کے افراد کو ذہنی طور پر مفتوح کر لیا تھا۔ اسی طرح آج دوبارہ ایسا اسلامی لٹریچر درکار ہے جو لوگوں کو ذہنی طور پر مفتوح کرلے۔

بظاہر یہ بات ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ مگر اس ناممکن کو خود خدا نے ہمارے لئے ممکن بنا دیا ہے۔ خدا نے حق کے داعیوں کی مدد کے لئے انسانی تاریخ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ یہاں میری مراد سائنسی انقلاب سے ہے۔ سائنسی انقلاب کے ذریعہ نے استدلالی امکانات انسان کی دسترس میں آگئے۔ حتیٰ کہ بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آج ہمارے لئے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ مخاطب کے سامنے دین کے حق میں وہ اعجازی استدلال پیش کر سکیں جو پہلے صرف خدا کے پیغمبروں کی دسترس میں ہوتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات ایک عظیم الشان خدائی معجزہ ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے خالق کی ذات وصفات کے حق میں معجزاتی دلیل ہے۔ تاہم قدیم زمانہ میں یہ خدائی معجزہ ابھی تک غیر دریافت شدہ حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اس لئے خدا نے قدیم زمانہ میں پیغمبروں کو مخصوص طور پر خارق عادت معجزے دئے۔

مگر پیغمبر اسلام کے مخاطبین کے مسلسل مطالبہ کے با وجود انہیں مذکورہ قسم کا کوئی معجزہ نہیں دکھایا گیا۔ بلکہ قرآن میں کائنات کا حوالہ دیا گیا۔ کہا گیا کہ کائنات میں خدا کی آیات موجود ہیں ان کو دیکھو۔ وہی تمہارے یقین کے لئے کافی ہیں۔ چوں کہ قرآن دور سائنس کے آغاز میں آیا اس لئے قرآن میں کائنات کی نشانیوں کا حوالہ دینا کافی سمجھا گیا۔ ابدی پس منظر میں، قرآن کا مخاطب وہ انسان تھا جو دور سائنس میں جی رہا ہو۔ اور دور سائنس کے انسان کو خدا اور اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لئے کسی خارق عادت معجزہ کی ضرورت نہیں۔

معجزہ سے کیا مطلوب ہے۔ معجزہ سے مطلوب محض کوئی حیران کن کرشمہ دکھانا نہیں بلکہ دعوت حق کو مخاطب کے لئے آخری طور پر ثابت شدہ بنانا ہے۔ دعوت کی موافقت میں ایسے دلائل جمع کرنا ہے جس کے بعد مخاطب کے لئے انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ قدیم زمانہ میں اسی مقصد کے لئے خارق عادت معجزہ دکھایا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں یہی کام رموز فطرت کو منکشف کر کے سائنس نے انجام دے دیا ہے۔ واضح ہو کہ قرآن میں پیغمبرانہ معجزوں اور کائناتی نشانیوں کے لئے ایک ہی مشترک لفظ استعمال ہوا

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page