Al-Risala · January 1984 · page 29

استقلال کی اہمیت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

بھی کرتے ہیں۔ مگر بڑی کامیابی بہت کم لوگوں کے حصہ میں آتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ بڑی کامیابی مستقل ارادہ مانگتی ہے۔ اور یہی وہ امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ شروع کرنے کو تو ہر آدمی کوئی نہ کوئی کام شروع کر دیتا ہے۔ مگر اکثر لوگ زیادہ دیر تک اپنے کام کو جاری نہیں رکھ پاتے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو ان کو زندگی میں ناکام بنا دیتی ہے۔

ترقی اور خوش حالی مسلسل آگے بڑھتے رہنے کا دوسرا نام ہے۔ زندگی ایک ایسا مقابلہ ہے جس میں ٹھہر نا بھی گویا پیچھے ہٹنا ہے۔ اور جو شخص ایک بار پیچھے ہو گیا اس کو دوبارہ آگے بڑھنے کے لئے کئی گنا زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ آگے بڑھنا چلنا ہے۔ اور آگے نہ بڑھنا تھک کر بیٹھ جانا۔ رگ وید میں کہا گیا ہے کہ ’’قدم پیچھے نہ ہٹانے والا ہی خوش حالی کو فتح کرتا ہے۔ ‘‘ اس دنیا میں نتیجہ ہمیشہ اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو نتیجہ کی پروا کئے بغیر اپنا عمل برابر جاری رکھے۔ جس کی نظر ہر وقت نتیجہ پر ہو وہ بہت جلد مایوس ہو کر بیٹھ جائے گا۔ وہ استقلال کے ساتھ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ جس شخص کا یہ حال ہو کہ عمل ہی اس کے لئے لذت بن جائے۔ دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ اپنے عمل میں لگا رہنا جس کو کافی نظر آئے وہ مستقل عمل پر قائم رہے گا۔ اور وہی حقیقی معنوں میں کامیاب ہوگا۔ یہی بات ہے جو مہابھارت کے ایک کردار کی زبان سے ان لفظوں میں ادا ہوئی ہے۔ ’’پھل کی خواہش کئے بغیر اپنا عمل کر‘‘ برداشت کیجئے شیلر نے کہا ہے ’’نفسانی خواہشات کا جنون تھوڑی دیر رہتا ہے مگر اس کا پچھتاوا بہت دیر تک‘‘ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر بڑی بڑی حماقتیں وقتی جذبہ کے تحت ہوتی ہیں۔ جب وقتی جذبہ ختم ہو جاتا ہے تو زندگی بھر آدمی افسوس کرتا رہتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اعتدال کی حالت میں آدمی خود ہی یہ مان لیتا ہے کہ بے اعتدالی کی حالت میں اس نے جو کچھ کیا وہ غلط تھا۔

میری ملاقات ایک وکیل صاحب سے ہوئی ۔ وہ فوج داری کے مقدمات کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اپنی وفات لوفی پریکٹس کے دوران میرا تعلق بہت سے قاتلوں سے ہوا۔ میں نے پایا کہ ہر قاتل اپنے قاتلانہ فعل پر شرمندہ تھا۔ وکیل صاحب نے کہا کہ قتل ہمیشہ وقتی جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ وقتی جوش میں آکر ایک آدمی دوسرے آدمی کو مار ڈالتا ہے۔ اس کے بعد جب اس کو ہوش آتا ہے تو ساری زندگی وہ پچھتاتا رہتا ہے۔ اس کا ضمیر ہمیشہ اس سے یہ کہتا ہے کہ کاش میں نے ایسا نہ کیا ہوتا۔ قاتل کی بعد کی زندگی ایک ایسی سزا ہوتی ہے جو اس کے ضمیر کی عدالت نے خود اس کے اوپر

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page