Al-Risala · January 1984 · page 30

استقلال کی اہمیت

الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰

نافذ کیا ہو۔

جب بھی آپ پر اس قسم کا جذبہ سوار ہو تو فوری کارروائی سے رک جائیے۔ آپ کا رکنا آپ کی اصلاح بن جائے گا۔ شام کے وقت اگر آپ پر جذبہ طاری ہوا اور آپ کسی طرح اقدام سے بچ کر اپنے کو بستر پر پہنچا دیں تو اگلے دن جب آپ سو کر اٹھیں گے تو آپ کا جذبہ ٹھنڈا پڑ چکا ہوگا۔ آپ کو خود یہ سوچ کر تعجب ہو گا کہ کل آپ کا کیا حال ہو گیا تھا۔

انگریزی زبان میں ایک کہاوت ہے ”انتقام کی پلیٹ ٹھنڈی کر کے کھاؤ،“ آپ کے سامنے کھانا آئے اور وہ زیادہ گرم ہو۔ ایسی حالت میں اگر آپ فوراً اس کو کھانے لگیں تو کیا ہوگا۔ خود آپ کا منہ جل جائے گا۔ ہر عقلمند آدمی ایسے گرم کھانے کو ٹھنڈا کر کے کھانا پسند کرے گا۔ یہی طریقہ ہم کو روزمرہ کی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انتقام کی آگ بجھا کر ہم کو لوگوں سے معاملہ کرنا ہے۔ اگر کسی کے اوپر آپ کو غصہ آ جائے تو پہلے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کیجئے ۔ اس کے بعد سوچیے کہ آپ کو اپنے فریق کے ساتھ کیا کرنا چاہیے منفی ذہنیت کے ساتھ کوئی شخص نہ صحیح طور پر سوچ سکتا اور نہ صحیح طور پر یہ فیصلہ کر سکتا کہ اسے فی الحقیقت کیا کرنا چاہئے۔

اسی بات کو شکسپیر نے ان لفظوں میں کہا ہے ” اپنے دشمن کے لئے اپنی بھٹی کو اتنا گرم نہ کر کہ وہ خود تجھ کو بھون ڈالے۔ “ ظاہر ہے کہ جنون کی آگ سب سے پہلے آدمی کے اپنے اندر بھڑکتی ہے۔ اگر آدمی اپنے اندر تیز آگ بھڑکالے تو دوسرے تک اس کا اثر بعد کو پہنچے گا۔ آدمی اس سے پہلے اپنے آپ کو جلائے گا۔ پھر آپ ایسی حرکت کیوں کریں جس کا نقصان دوسرے تک پہنچنا مشتبہ ہو مگر خود اپنی ذات کو یقینی طور پر اس کا نقصان پہنچنے والا ہو۔ اگر آپ کو اپنے آپ سے محبت ہے تو یہی کافی ہے کہ آپ دوسرے سے نفرت کرنا چھوڑ دیں۔

اس دنیا میں اپنے آپ سے محبت کا راز یہی ہی ہے کہ آدمی دوسروں سے محبت کرے ۔ جو شخص دوسروں سے نفرت میں مبتلا ہو جائے وہ خود اپنے لئے ہر طرف نفرت کے کانٹے بکھیرے گا ۔ لوگوں کے درمیان خود اپنے لئے سکون کے ساتھ رہنے کو ناممکن بنادے گا۔ نفرت پر اپنی زندگی کی بنیاد رکھنا یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی معتدل حالت میں نہیں ہے ۔ بائرن نے صحیح کہا ہے ” نفرت دل کا پاگل پن ہے ، دماغی پاگل پن یہ ہے کہ آدمی ہوش کھودے۔ دل کا پاگل پن یہ ہے کہ آدمی سنجیدگی اور اعتدال کھودے۔ کوئی شخص دماغی پاگل پن کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح دل کا پاگل پن بھی اس قابل ہے کہ آدمی اس سے دور رہے۔ - (آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۱۲-۱۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کو نشر کیاگیا)

‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues

Printed page