Al-Risala · June 1984 · page 41

موافق امکانات

الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱

تحقیق کی جائے۔ مگر شرک کا عقیدہ اس تحقیق کی راہ میں حائل تھا۔ مشرک انسان کائنات کے مظاہر کو پرستش کی چیز سمجھے ہوئے تھا۔ پھر وہ اس کو تحقیق کی چیز کیسے بناتا۔

توحید کے عمومی انقلاب نے اس رکاوٹ کو ختم کر دیا۔ اسلامی انقلاب کے بعد کائنات کے تقدس کا ذہن ختم ہو گیا ۔ اب کائنات کے مظاہر پر آزادانہ غور و فکر شروع ہو گیا۔ یہ کام صدیوں تک عالمی سطح پر جاری رہا یہاں تک کہ بالاخر وہ یورپ پہنچا۔ یورپ میں اس کو موزوں زمین ملی۔ یہاں اس نے تیزی سے ترقی کی۔ یہاں وہ عظیم فکری انقلاب ظہور میں آیا جس کو موجودہ زمانہ میں سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔

سائنسی تحقیق کے ذریعے کائنات کے جو حقائق معلوم ہوئے ہیں وہ قرآن کی دعوت کو قطعیات کی سطح پر ثابت کر رہے ہیں۔ اس کی تفصیل راقم الحروف نے اپنی کتاب مذہب اور جدید چیلنج (الاسلام یتحدی) میں کی ہے۔ جو لوگ زیادہ تفصیل کے خواہشمند ہوں وہ اس کتاب میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ ۳۔ اس سلسلے میں تیسری چیز وہ ہے جس کی طرف قرآن کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ عسی ان يبعثك ربك مقاما محمودا (قریب ہے کہ اللہ تم کو ایک مقام محمود پر کھڑا کرے) محمود کے معنی ہیں ”تعریف کیا ہوا“ تعریف دراصل تسلیم و اعتراف کی آخری صورت ہے۔ کسی کو ماننے والا جب اس کو ماننے کی آخری حد پر پہنچتا ہے تو وہ اس کی تعریف کرنے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم شدہ نبوت کے مقام پر کھڑا کرے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں بھی محمود تھے اور آخرت میں بھی محمود۔ شفاعت کبریٰ جس کا ذکر حدیث میں ہے وہ آخرت میں آپ کا مقام محمود ہے اور آپ کا تاریخی طور پر مسلم اور معترف ہونا دنیا میں آپ کا مقام محمود۔

خدا کی طرف سے ہر دور میں اور ہر قوم میں پیغمبر آئے۔ یہ سب سچے پیغمبر تھے۔ ان سب کا پیغام بھی ایک تھا۔ مگر مختلف اسباب سے ان پیغمبروں کو تاریخی حیثیت حاصل نہ ہو سکی۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق آج کے انسان کے لئے ان پیغمبروں کی حیثیت نزاعی نبوت کی ہے نہ کہ مسلم نبوت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت تاریخی طور پر ایک ثابت شدہ نبوت ہے۔ جب کہ دوسرے نبیوں کی نبوت تاریخی طور پر ثابت شدہ نہیں۔ اس بنا پر آج یہ ممکن ہو گیا ہے کہ تسلیم شدہ (Established) نبوت کی سطح پر دین کی دعوت دے سکیں ۔ جب کہ اس سے پہلے، ہمیشہ تنازعہ (Controversial) نبوت کی سطح پر دین کی دعوت دینی پڑتی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues

Printed page