افراد کار کی فراہمی
الرسالہ، جون ۱۹۸۴، صفحہ ۴۴
یہی تمام مسلم حکمرانوں کا حال ہے۔ اگر آپ اسلامی دعوت کے کام میں مشغول ہوں تو وہ ہر طرح کا اعلیٰ ترین تعاون آپ کو دیں گے۔ لیکن اگر آپ ان کے خلاف سیاسی مہم چلائیں تو وہ آپ کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں مسلسل سید جمال الدین افغانی کے اسوہ کو دہرایا جا رہا ہے۔ مسلمان کہیں ایک عنوان سے اور کہیں دوسرے عنوان سے، اپنے حکم رانوں کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول ہیں۔ حتی کہ آج '' اسلامی دعوت '' کا لفظ مسلم حکمرانوں کے لئے سیاسی اپوزیشن کے ہم معنی بن کر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ سے نہ صرف یہ نقصان ہوا ہے کہ اسلامی دعوت کی مہم میں مسلم حکومتوں کا بھر پور تعاون حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ بلکہ اگر کوئی شخص حکومت سے بے نیاز ہو کر ذاتی طور پر اس ذمہ داری کو ادا کرنا چاہے تو حکومت اس کو شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتی ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ ضرورت ہے کہ مسلم حکم رانوں سے سیاسی منازعت کو مکمل طور پرختم کر دیا جائے، خواہ وہ اسلام کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر۔ تاکہ ہر مسلم ملک میں اسلامی کارکنوں کو ان کی قومی حکومتوں کا تعاون حاصل ہو اور اسلام کے احیاء کا کام بڑے پیمانے پر شروع کیا جا سکے، غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے بھی اور خود مسلمانوں کی اپنی تعمیر واصلاح کے لئے بھی۔
افراد کار کی فراہمی
دعوت اسلامی کی ذمہ داری کو ادا کر نے اور موجودہ مواقع کو استعمال کرنے کے لئے افراد کار کی ضرورت ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ منتخب لوگ مخصوص تربیت کے ذریعہ اس مقصد کے لئے تیار کئے جائیں۔ وہ دین میں تفقه حاصل کرکے مختلف قوموں میں جائیں اور ان کو توحید کی تعلیم دیں اور آخرت سے آگاہ کریں (فلولا نفر من كل فرقة منهم طائفة ليتفقهوا في الدين ولينذروا قومهم اذا رجعوا اليهم، التوبه ۱۲۲)
آج دنیا میں مسلمانوں کے بے شمار مدر سے اور تعلیم کے ادارے ہیں مگر ساری دنیا میں کوئی ایک مدرسہ بھی خاص اس مقصد کے لئے موجود نہیں جہاں خالص دعوتی ضرورت کے تحت لوگوں کی تعلیم و تربیت کی جائے تاکہ وہ وقت کی ضرورت کے مطابق تیار ہو کر موثر انداز میں لوگوں کے اوپر دعوت الی اللہ اور انذار آخرت کا کام کریں۔ آج کی ناگزیر ضرورت ہے کہ ایسی ایک تعلیم گاہ قائم کی جائے اور اس کو معیار کے مطابق بنانے کے لئے ہر وہ قیمت ادا کی جائے جو موجودہ حالات میں ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1984 All issues