Al-Risala · July 1984 · page 6

صبر کی زمین پر

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۶

صبر کی زمین پر

ہری بھری فصل مٹی کے کھیت میں اگتی ہے نہ کہ سونے چاندی کے فرش پر۔ یہ محدود معنوں میں صرف زراعت کی بات نہیں۔ بلکہ یہ زندگی کا عالم گیر قانون ہے۔ خدا نے ہر چیز کے وجود میں آنے کے لئے ایک نظام مقرر کر دیا ہے۔ اسیی خاص نظام کے تحت وہ چیز وجود میں آتی ہے۔ کسی اور طریقہ سے ہم اس کو وجود میں نہیں لاسکتے۔

یہی انسانی زندگی کا معاملہ بھی ہے ۔ زندگی ایک ایسا امتحان ہے جو صبر کی زمین پر دینا پڑتا ہے۔ زندگی ایک ایسی کھیتی ہے جو صبر کی زمین پر اگتی ہے۔ خدا نے ابدی طور پر مقرر کر دیا ہے کہ زندگی کی تعمیر صبر کی زمین پر ہو اب قیامت تک یہی ہونا ہے۔ ہم اس کی تعمیر کے لئے کوئی دوسری زمین نہیں بنا سکتے۔ صبر کسی منفی چیز کا نام نہیں وہ سراسر ایک مثبت رویہ ہے۔ صبر کا مطلب ہے ۔ بے سوچے سمجھے کر گزرنے کے بجائے سوچ سمجھ کر اپنا کام کرنا۔ جذباتی رد عمل کے بجائے شعوری فیصلے کے تحت اپنا منصوبہ بنانا۔ وقتی نا امیدیوں میں مستقبل کی امید کو دیکھ لینا ۔ حالات میں گھر کر رائے قائم کرنے کے بجائے حالات سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرنا۔

ایک بیج کو آپ سونے کی پلیٹ میں رکھ دیں تو وہ اپنی زندگی کے سرچشموں سے مربوط نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے اسباب سے بھری ہوئی کائنات میں بے اسباب بنا ہوا پڑا رہتا ہے۔ وہ اچھا کی ہماری صلاحیت رکھتے ہوئے اپنے سے محروم رہتا ہے۔

یہی حال انسان کا ہے۔ اگر وہ بے صبری کی حالت میں ہو تو وہ خدا کی سرسبز و شاداب دنیا میں ایک ٹھنٹھ کی مانند سوکھا ہوا پڑا رہے گا۔ لیکن صبر کو اختیار کرتے ہی وہ اچانک خدا کی زمین میں اپنی جڑیں پالیکتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بالآخر پورا درخت بن جاتا ہے۔

جب آدمی حقیقی معنوں میں صبر کا ثبوت دیتا ہے تو وہ بندوں کی سطح پر جینے کے بجائے خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے۔ دنیا کی تنگیوں سے گزر کر وہ آخرت کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بے معنی زندگی کے مرحلہ سے نکل کر با معنی زندگی کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے۔

صبر والا انسان ہی مومن انسان ہے۔ اس کے لئے وہ ابدی انعام مقدر کیا گیا ہے جس کا دوسرا نام جنت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page