21واں منٹ
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۵
21واں منٹ
موجودہ دنیا میں انسان بظاہر آزاد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے کرے، کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔ اس صورت حال نے انسان کو غفلت میں ڈال دیا ہے۔ ہر آدمی بے خوف بنا ہوا ہے۔ ہر آدمی وہ سب کر ڈالنا چاہتا ہے جس کو کرنے کے لئے اس کا دل کہے۔
مگر یہ صورت حال سراسر وقتی ہے۔ آدمی کے پاس صرف ایک محدود مدت ہے۔ اس خاص مدت کے اندر ہی وہ سرکشی کر سکتا ہے۔ اس مدت کے ختم ہوتے ہی اس کا مالک اسے پکڑلے گا۔ اس کے بعد وہ مجبور ہوگا کہ اپنی سرکشی کا انجام ابدی طور پر بھگتتا رہے۔
ہوائی جہاز کو اڑانے کے لئے دو پائلٹ ہوتے ہیں۔ ۲۱ جولائی ۱۹۸۳ کو یہ واقعہ ہوا کہ ایک ہوائی جہاز اٹلانٹک سمندر کے اوپر اڑ رہا تھا۔ عین پرواز کی حالت میں اس کے دونوں پائلٹ در ہوا باز سو گئے اور مسلسل ۲۰ منٹ تک سوتے رہے۔ وہ صرف اس وقت بیدار ہوئے جب کہ پائلٹ کیبن میں ایک خاص طرح کا الارم بجنا شروع ہو گیا ۔ (ہندوستان ٹائمس ۲۲ جولائی ۱۹۸۳)
یہ ہوائی جہاز کسی اتفاقی سبب سے اپنے روانگی کے مقام پر ۱۲ گھنٹے لیٹ ہو گیا تھا۔ اس غیر معمولی حادثہ کی وجہ سے پائلٹ بے حد تھکے ہوئے تھے۔ جب انھوں نے ہوائی جہاز کو اڑایا تو اس کے انجن کو انھوں نے ایک خاص رفتار پر سٹ کر دیا۔ اب ہوائی جہاز ایک بندھی ہوئی رفتار پر اڑنے لگا۔ اس درمیان میں تھکے ہوئے ہوا بازوں کی آنکھ بند ہو گئی۔ اور وہ مسلسل ۲۰ منٹ تک سوتے رہے۔ یہاں تک کہ کنٹرول کا نظام بگڑ گیا اور ہوائی جہاز کی رفتار غیر معمولی تیز ہوگئی۔ اس کے بعد مشینی نظام کے تحت جہاز کا مخصوص الارم بجنے لگا۔ الارم کی وجہ سے پائلٹ جاگ اٹھے اور فوراً انجن کو سنبھال لیا۔
فارن بورو( ( انگلینڈ ) کے ہوائی جرنل (Feed-back) میں ایک ہوا باز نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہوں کہ کیا کچھ ہو سکتا تھا: I Shudder to think what could have happened موجودہ زندگی کو اگر ’’ ۲۰‘‘ منٹ کا لمحہ فرض کریں اور اس کے بعد ۲۱ ویں منٹ کو آخرت میں داخلہ کے ہم معنی قرار دیں تو، ہم کہہ سکتے ہیں کہ قدرت نے انسان کو صرف ۲۰ منٹ تک غلطی کرنے کی اجازت دی ہے اگر وہ آخر وقت تک ہوشیار نہ ہو تو قدرت اس کو ۲۱ ویں منٹ میں غلطی کرنے کی اجازت نہ دے گی۔ ۲۰ منٹ کے بعد اس کے لئے یا تو اپنی اصلاح کر لینا ہے یا موت کی گرفتاری۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues