خصوصی صلاحیت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۰
خصوصی صلاحیت
عرصہ ہوا میں نے ایک مضمون پڑھا تھا۔ اس کے مغربی مضمون نگار نے بہت سے بڑے لوگوں کے حالات زندگی کو پڑھ کر یہ متعین کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ کون سی مشترک صفت ہے جو کسی بڑے آدمی کو بڑا بناتی ہے۔ اس نے اپنی تحقیق کے بعد بتایا تھا کہ وہ لوگ جو کسی بڑی ترقی کے مقام کو پہنچتے ہیں ان میں دو خاص صفت پائی جاتی ہے:
Curiosity and Discontent
یعنی تجسس اور عدم قناعت۔ تجسس ہمیشہ ان کو عمل میں مصروف رکھتا تھا اور عدم قناعت نے انہیں کسی مقام پر رکنے نہیں دیا۔
ولٹشائر(Wiltshire)کی (Wiltshire) کی میتھمیٹکس ایڈوائزر مسز انیتا اسٹریکر Mrs Anita Straker نے اسکولس کونسل کے لئے ۸ - صفحات پر مشتمل ایک تعلیمی رپورٹ تیار کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موہوب لڑکوں (Gifted Children) کی صفات کیا ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے الفاظ میں ان میں سے ایک خاص صفت یہ ہے :
Pupils who are impatient with anything that is second best are probably gifted جو طلبہ ایسی خیر پر راضی نہ ہوتے ہوں جو دوسری بہتر چیز ہے، گمان غالب ہے کہ وہ خصوصی وہی صلاحیت کے مالک ہوں گے ( ہندستان ٹائمس ۲ فروری ۱۹۸۳ )
کسی انسان کی یہ نہایت اعلیٰ خصوصیت ہے کہ وہ پہلی بہتر چیز سے کم کسی چیز پر راضی نہ ہوتا ہو۔ یہی خصوصیت آدمی کے لئے تمام خوبیوں اور بڑیائیوں کا زینہ ہے۔
یہ مزاج آدمی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ کامل سچائی کی طرف بڑھتا چلا جائے اور کسی ادھوری سچائی پر نہ ٹھہرے۔ یہ مزاج اس کو پست کرداری سے اٹھاتا ہے اور اعلیٰ کر دارو الا بناتا ہے۔ یہ مزاج اس کو چھوٹی کامیابی پر قانع نہیں ہونے دیتا۔ اور برابر بڑی ترقیوں کی طرف بڑھاتا رہتا ہے۔ یہ مزاج اس کو اس قابل بناتا ہے کہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے میں وہ صرف معیارِ ی صورت کو اپنے سامنے رکھے۔ اور اپنی ڈیوٹی کو پوری طرح انجام دے کر خوشی حاصل کرے۔ یہ مزاج آدمی کے خود اپنے اندر ایک ایسا محرک رکھ دیتا ہے جو آدمی کو اکساتا رہتا ہے کہ وہ صرف چیز اعلیٰ پر ٹھہرے، اس سے کم کسی چیز پر اپنے کو راضی نہ ہونے دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues