Al-Risala · July 1984 · page 11

کچھ سے کچھ

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱

کچھ سے کچھ

دیوی سنگھ ایک مشہور ڈاکہ تھا جو جنوری ۱۹۸۴ء میں پولیس کے ساتھ ایک مقابلہ میں مارا گیا۔ مسز امرت پریتم کی ایک اتفاقی ملاقات مذکورہ ڈا کہ سے سیور اگاؤں میں ہوئی۔ اس موقع پر دونوں کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کی دل چسپ رو داد ہندوستان ٹائمس (۲۲ جنوری ۱۹۸۴ء) میں شائع ہوئی ہے۔

دیوی سنگھ نے بتایا کہ میں نے اب تک تقریباً ایک سو ڈاک کے ڈالے ہیں۔ ہم لوگ ڈاکہ نہیں ہیں بلکہ حکومت کے باغی ہیں۔ ہم مال لوٹتے ہیں مگر ہم نے آج تک کسی لڑکی کی عصمت نہیں لوٹی۔ ہمارا ایک سخت قسم کا اخلاقی اصول ہے۔ ہمارا کوئی آدمی اس کے خلاف کرے تو ہم فوراً اس کو گولی مار دیتے ہیں۔ امرت پریتم نے کہا کہ دیوی سنگھ جی، یہ بتائیے کہ آپ کی ٹولی (گینگ) میں کل کتنے آدمی ہیں۔ دیوی سنگھ نے کہا کہ سات آدمی، اور آٹھواں خدا؛

Seven men, and the eighth God

بظاہر یہ جملہ، معمولی فرق کے ساتھ، قرآن کی اس آیت کا ترجمہ معلوم ہوتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تم میں سے پانچ آدمی جہاں ہوتے ہیں وہاں چھٹا خدا ہوتا ہے (المجادلہ) پھر کیا ڈاکہ کی بات انھیں معنوں میں ہے جن معنوں میں وہ قرآن میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان - لفظی مشابہت کے سوا کوئی اور چیز مشترک نہیں۔

ڈاکو نے کس معنی میں یہ بات کہی، وہ خود مذکورہ انٹرویو میں موجود ہے۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ ڈاکو کے ذریعے جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کو ہم اپنی ٹولی کے درمیان بانٹتے ہیں۔ مثال کے طور پر میری ٹولی میں سات افراد ہیں تو ہم لوٹے ہوئے مال کے آٹھ حصے بناتے ہیں۔ سات حصے اپنے افراد کے لئے، اور ایک حصہ خدا کے لیے۔ خدا کا جو حصہ ہے اس کو ہم کسی غریب کو دیدیتے ہیں۔ آمدنی کا ایک حصہ مذہب کے نام پر خدا کو دینا یہ تمام ڈاکوؤں کا طریقہ ہے۔

قرآن کا خدا خوف پیدا کرتا ہے اور ڈاکوؤں کا خدا بے خوفی۔ خدا اس لئے تھا کہ وہ آدمی کو ڈاکو بازی سے روکے۔ مگر ڈاکوؤں نے خدا کا حصہ لگا کر اس کو اپنے ڈاکو کا چوکیدار بنا لیا۔ گویا جب وہ سات مل کر ڈاکو ڈالیں تو خدا ان کا آٹھواں بن کر ان کی حفاظت کے لئے موجود رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page