قرآنی استدلال
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۲
قرآنی استدلال
سورہ الرعد (آیت ۸-۱۰) میں مادہ کے حمل سے خدا کے علم غیب اور فرشتوں کے وجود پر استدلال کیا گیا ہے جس کی تشریح حسب ذیل ہے۔
حاملہ کا پیٹ انسان کی پیدائش کا کارخانہ ہے۔ اس کارخانہ سے جو ”پیداوار،، بن کر نکلتی ہے وہ حیرت انگیز طور پر باہر کی ضروریات کے عین مطابق ہوتی ہے۔ چنانچہ باہر کی دنیا میں عورت اور مرد کی تعداد کے درمیان جو تناسب درکار ہے وہ ہزاروں برس سے مسلسل قائم ہے۔ دونوں صنفیں اتنی تعداد میں تیار کی جاتی ہیں کہ تقریبا ۵۰ فیصد مرد اور تقریباً ۵۰ فیصد عورت کا تناسب برقرار رہے۔ اسی طرح تمدن کا نظام چلانے کے لیے مختلف صلاحیتوں کے افراد درکار ہیں۔ مزدور اور ذہین، ادیب اور انجینئر، لیڈر اور عوام ۔ چنانچہ ماں کی فیکٹری ہر صلاحیت کے انسان اتنی تعداد میں تیار کر کے باہر بھیج رہی ہے کہ خارجی دنیا میں ان کا تناسب بگڑنے نہ پائے۔ اسی طرح پہچان کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی کی صورت الگ الگ ہو۔ چنانچہ ہر مرد اور عورت الگ الگ صورت کے ساتھ پیدا کئے جا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیٹ کی فیکٹری کو مسلسل نئے ماڈل فراہم کئے جا رہے ہیں اور ان کے مطابق وہ کروڑوں افراد اس طرح تیار کر رہی ہے کہ ہر ایک کا نقشہ دوسرے سے مختلف ہو۔
یہ ایک مشاہدہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کوئی ایسا ناظم ہے جس کی نظر بیک وقت پیٹ کے باہر بھی ہے اور پیٹ کے اندر بھی۔ وہ باہر کی دنیا کو دیکھ کر ضروریات کی تفصیل مرتب کرتا ہے اور پھر نہایت صحیح اندازہ کے مطابق پیٹ کے اندر پیدا و ار تیار کرارہا ہے۔ دنیا میں اس قسم کا نظام ہونا یہ ثابت کرتا کہ اس کے پیچھے ایک ایسی ہستی ہے جو عالم الغیب والشہادہ ہے۔ اگر ایک ایسی ہستی یہاں موجود نہ ہو تو اندر اور باہر کے درمیان یہ توازن کبھی قائم نہیں ہوسکتا۔
کائنات میں غیر مرئی نگرانی کا نظام ثابت ہونے کے بعد یہ بات ناقابل فہم نہیں رہتی کہ یہ نظام دو سطح پر ہو۔ ایک خدا کی سطح پر دوسرے فرشتوں کی سطح پر جو خدا کے کارندے ہیں۔ یہ اصلاً صرف خدا کی صفت ہے کہ وہ حاضر اور غائب دونوں سے کامل طور پر واقف ہے۔ البتہ دنیا کے انتظام کے لئے اس نے کچھ درمیانی کارندے (فرشتے) بنائے ہیں۔ اور ان کو اپنی طرف سے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ مخفی طور پر آدمی کے آگے اور پیچھے رہیں۔ اور خدا کے حکم کے مطابق خدا کی طرف سے آدمی کی نگرانی کرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں (نگرانی) کے نظام کو ماننے کے بعد فرشتوں کو ماننا اتنا ہی ممکن ہو جاتا ہے جتنا وائرلیس کی ٹیکنالوجی کے ماننے کے بعد یہ ماننا کہ پڑوسی کے مکان میں ایک ” واکی ٹاکی “ موجود ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues