ذرہ برابر نیکی
الرسالہ، جنوری ۱۹۸۴، صفحہ ۳۳
ذرہ برابر نیکی
عن انس عن النبی صلی الله عليه وسلم قال، رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: آگ يخرج من النار من قال لا اله الا الله وفى سے نکل آئے گا وہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور قلبه شعيرة من خير ويخرج من النار من اس کے دل میں جو کے برابر خیر ہو۔ اور آگ قال لا اله الا الله وفى قلبه وزن برة من سے نکل آئے گا وہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور خير ويخرج من النار من قال لا اله الا الله اس کے دل میں گیہوں کے برابر خیر ہو۔ اور آگ وفى قلبه وزن ذرة من خير (بخاری) سے نکل آئے گا وہ جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ کے برابر خیر ہو۔
لا الہ الا اللہ کوئی لفظی منتر نہیں ہے جس کے مجرد تلفظ سے معجزاتی واقعات برآمد ہوتے ہوں ۔ یہ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے کہ کائنات کی ساری طاقتیں صرف ایک خدا کے پاس ہیں ، انسان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اسی ایک خدا سے تمام امیدیں وابستہ کرے اور اسی کو اپنا سب کچھ سمجھے۔
یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف جب آدمی کے دل ودماغ میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک طرف وہ خدا کے سامنے جھک جاتا ہے ، وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے ڈال دیتا ہے۔ اور دوسری طرف یہ ہوتا ہے کہ بندوں کے ساتھ تعلقات میں اس کے اندر گھمنڈ اور سرکشی کا انداز ختم ہو جاتا ہے۔ خدا کے سامنے اس کا جھکنا بندوں کے معاملہ میں تواضع کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ لا الہ الا اللہ کے اقرار کے نتیجہ میں پیدا شدہ اسی صلاحیت کا نام خیر ہے۔ آدمی کا اقرار و اعتراف جتنا گہرا ہو گا اتنا ہی زیادہ بڑے پیمانہ پر اس کے اندر اس "خیر" کا ظہور ہو گا۔
انسانوں کو تین بڑی قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جنہوں نے نہ تو خدا کے معاملہ میں حقیقت واقعہ کا اعتراف کیا اور نہ ان کی زندگی میں خیر اور صالحیت کا ظہور ہوا۔ ایسے لوگ خدا کی رحمتوں سے محروم ہو کر ابدی طور پر جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے معاملہ میں پوری طرح حقیقت واقعہ کا اعتراف کیا اور اس اعتراف کے نتیجہ میں ان کی زندگی میں پوری طرح خیر کا ظہور ہوا۔ ایسے لوگوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 1984 All issues