کردار کی طاقت
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۱۹
کردار کی طاقت
لوگ عام طور پر دو ہی قسم کے لوگوں کو طاقت ور سمجھتے ہیں۔ ایک وہ جن کے پاس مادی چیزوں کا ڈھیر ہو۔ دوسرے وہ جو دادا گیری کرنا جانتے ہوں ۔ مگر طاقت کا سب بڑا اور بڑا ہے مزید یہ کہ کردار ایک ایسی چیز ہے جس کا مالک ہر ایک آدمی بن سکتا ہے۔ اس کے لئے نہ مادی دیو ہونا ضروری ہے اور نہ جسمانی پہلوان ہونا۔
مولانامحمد قاسم قاسمی (پیدائش ۱۹۵) مدرسہ حسین بخش دہلی میں استاد ہیں اور اسی کے ساتھ ایک مسجد میں امام ہیں۔
موصوف نے دہلی میں گھڑی کی مرمت کی دکان کھولی۔ ان کو اپنی دکان پر بٹھانے کے لئے ایک کاریگر کی ضرورت تھی۔ اس اثنا میں یہ ہوا کہ ایک روز ان کی مسجد میں ایک شخص نے نماز پڑھی عمر تقریباً ۴۰ سال تھی۔ تعارف کے بعد معلوم ہوا کہ ان کا نام محمد دین کشمیری ہے اور وہ گھڑی کا کام جانتے ہیں۔ "آپ دہلی میں کیسے آئے" مولانامحمد قاسم نے پوچھا۔
"کام کی تلاش میں" محمد دین کشمیری نے جواب دیا۔
"آپ گھڑی کی مرمت کا کام جانتے ہیں"
"الحمد للہ جانتا ہوں اور میں اپنے کام پر مطمئن ہوں"
"دہلی میں کوئی آدمی ہے جو آپ کی ضمانت لے سکے"
"میرا ضامن صرف اللہ ہے۔ اگر آپ کو اللہ کی ضمانت پر اطمینان ہو تو میں اس کو اپنی ضمانت میں پیش کر سکتا ہوں " محمد دین کشمیری کی گفتگو کے اس انداز نے مولانا محمد قاسم کو متاثر کیا اور انھوں نے ان کو اپنی دکان پر رکھ لیا ۔ اب اس واقعہ کو کئی مہینے گزر چکے ہیں اور خدا کے فضل سے دونوں فریق مطمئن ہیں۔ مولانا محمد قاسم صاحب کی دکان بھی کامیاب ہے اور محمد دین کشمیری صاحب کو بھی روزگار مل گیا ہے۔
اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ کردار خود اپنے اندر طاقت رکھتا ہے۔ اگر آدمی با کردار ہو تو اس کا با کردار ہونا اس کی زبان میں یقین اور عزم کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے اور جہاں یقین اور عزم آجائے وہاں کامیابی اسی طرح آتی ہے جس طرح سورج کے بعد روشنی اور پانی کے بعد سیرابی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues