Al-Risala · July 1984 · page 20

خدا دریافت

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۰

خدا دریافت

نیکیتا خروشیچوف نے کہا تھا " ہمارا راکٹ چاند تک گیا مگر اس کو کہیں خدا نہیں ملا، کمیونسٹ روس کے سابق صدر نے یہ بات نعوذ باللہ بطور مذاق کہی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے تمام سیکولر محققین پر وہ پوری طرح صادق آتی ہے۔

موجودہ زمانہ میں بہت بڑے پیمانے پر فطرت کے علوم کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ زمین سے لے کر آسمان تک کی مختلف چیزوں کی تحقیق میں بے شمار لوگوں نے اپنی عمریں صرف کر دیں۔ مگر ان لوگوں کی کتابیں پڑھئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں کہیں ان کی خدا سے ملاقات نہیں ہوئی۔ وہ زمین سے لے کر آسمان تک سفر کرتے رہے۔ مگر خدا کی کوئی جھلک انھیں دکھائی نہیں دی۔ انھوں نے خاموش لہروں کے ذریعہ سفر کرنے والی آوازوں کو پکڑ لیا۔ مگر ان کے کان خدا کی آواز سے آشنا نہیں ہوئے۔ ان کی خورد بینوں اور دوربینوں نے انھیں ایسی چیزیں دکھائیں جو اس سے پہلے انسان نے بھی نہیں دیکھی تھیں مگر خدا کے فرشتوں سے ان کا کبھی مصافحہ نہیں ہوا۔ جو کائنات میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ یہی واقعہ موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اور قائدین کے ساتھ بھی کسی قدر بدلی ہوئی شکل میں پیش آیا ہے۔ جس طرح سیکولر مفکرین کو کائنات کا صرف ظاہر ملا، اس کی اندرونی حقیقت انھیں نہیں ملی۔ اسی طرح مسلم مفکرین کے حصہ میں اسلام کا صرف ظاہری ڈھانچہ آیا۔ وہ اسلام کی اندرونی حقیقت سے آشنا نہ ہو سکے۔

آپ ان مفکرین کی تقریریں سنئے، ان کی سوانح عمریاں پڑھئے، ان کی کتابوں کا مطالعہ کیجئے۔ آپ کو ان میں ہر چیز ملے گی مگر وہی چیز نہیں ملے گی جو اسلام کی اصل روح ہے ــــ ان کے یہاں انسانوں سے ملاقات کا ذکر ہوگا مگر خدا کی کبریائی کا احساس اور خدا سے ملاقات کا کہیں ذکر نہ ہوگا۔ وہ انسانی آرٹ کی بلندی اور تاثیر سے مسحور نظر آئیں گے۔ مگر خدائی آرٹ کی بلندی اور تاثیر سے ان کے اندر کوئی تموج پیدا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے گا۔ دنیا کے واقعات کے چرچے سے ان کی زبان و قلم گونج رہی ہوں گی مگر آخرت کے چرچے کا نشان کہیں دکھائی نہیں دے گا۔ وہ قومی مسائل اور ملی مفاخر پر ولولہ انگیز تقریر کرتے ہوئے نظر آئیں گے مگر خدا کے جلال و جمال پر ولولہ انگیز تقریر کی کبھی ان کے یہاں سنائی نہ دے گی وہ اپنی حیران کن دریافتوں کا انکشاف کریں گے مگر کہیں اس کا نشان نہیں ملے گا کہ ان پر خدا کا انکشاف ہوا اور خدا کی دریافت نے ان کے اندر ہلچل پیدا کر دی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page