دین یا قوم پرستی
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱
دین یا قوم پرستی
دین الگ چیز ہے اور قوم پرستی الگ چیز۔ ایک قول یا عمل جو قوم پرستی کے جذبہ کے تحت کیا جائے وہ بہر حال قوم پرستی ہی رہے گا، اس سے کبھی دینی نتائج بر آمد نہیں ہو سکتے، خواہ بظاہر اس کے لئے دین اور اسلام کے الفاظ کیوں نہ استعمال کئے گئے ہوں۔
علامہ اقبال نے کہا تھا :
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی ستارے جس کی گرد راہ ہوں وہ کارواں تو ہے یہی بات ہندوستان کے پہلے خلاباز راکیش شرما نے اس وقت کہی جب کہ وہ تین سو کلومیٹر کی بلندی پر خلا میں اڑ رہے تھے۔ ۵ ا پریل 1984 کو ہندوستانی خلاباز اور زمین پر بیٹھے ہوئے حکومت ہند کے ذمہ داروں کے درمیان ایک بات چیت ہوئی۔ اس بات چیت کا ایک حصہ، اخباری رپورٹ ٹائمس آف انڈیا 6 اپریل ۱۹۸۴ء) کے مطابق یہ تھا :
Rakesh Sharma told Air Chief Marshal Dilbagh Singh "For the Indian Air Force, the sky is no longer the limit." The Air Cheif Marshal told Sharma that the Indian Air Force was "very proud"
of his achievement.
راکیش شرما نے ایئر چیف مارشل دلباغ سنگھ سے کہا کہ ہندوستانی ہوائیہ کے لئے آسمان اب حد نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ایئر چیف مارشل نے شرما سے کہا کہ ہندوستانی ہوائیہ کو اس کامیابی پر بہت زیادہ فخر ہے۔ مندرجہ بالا دونوں جملوں میں کس قدر مشابہت ہے۔ حالاں کہ ان میں سے ایک جملہ "مومن" کی زبان سے نکلا ہے اور دوسرا جملہ "کافر" کی زبان سے ۔ اب چوں کہ مومن کا کلام اور کافر کا کلام دونوں ایک نہیں ہو سکتا، اس لئے ضروری ہے کہ اس یکسانیت کی کوئی دوسری وجہ تلاش کی جائے۔ اس حیثیت سے جب دونوں کی باتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے کلام میں جو مشابہت ہے اس کا سبب قومی جذبہ کی یکسانیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ پہلے شعر کا تعلق ایمان سے ہے اور نہ دوسرے قول کا تعلق کفر سے۔ یہ سراسر قومی جذبہ سے نکلے ہوئے کلام ہیں۔ اقبال چوں کہ مسلم روایات میں پیدا ہوئے اس لئے انھوں نے اپنے قومی جذبہ کا اظہار اسلامی الفاظ میں کیا۔ راکیش شرما کی پرورش وطنیت کے ماحول میں ہوئی اس لئے انھوں نے اپنے قومی جذبہ کے لئے " ہندوستان " کا لفظ استعمال کیا۔ دونوں میں صرف ظاہر کا فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues