Al-Risala · July 1984 · page 29

عميد شئون الطلاب

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۹

مدینہ کا یہ سفر الجامعۃ الاسلامیہ (مدینہ منورہ) کی دعوت پر ہوا۔ جمادی الاول ۱۴۰۴ھ میں جامعہ میں المؤتمر الثانی للدعوۃ الاسلامیہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے دعاۃ اور اہل علم بلائے گئے تھے۔ مجھے بھی اس موتمر میں شرکت کی دعوت دی گئی مطبوعہ پروگرام میں میرا نام شامل کیا جا چکا تھا۔ مگر اس وقت میں بعض اسباب کی بنا پر سفر نہ کرسکا۔ تاہم جامعہ مجھ کو بلانا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد انھوں نے ایک ہفتہ کا مستقل پروگرام بنایا جس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ سے ملاقاتیں تھیں اور ہر روز شام کو جامعہ میں میرا ایک محاضرہ (لچکر) رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت یہ سفر ہوا۔ مولانا محمد ہاشم القاسمی کے ہمراہ یکم مارچ کو مدینہ پہنچا۔

ظہران کے ہوائی اڈہ پر جہاز اتراتو اعلان کیا گیا کہ تمام مسافر، خواہ وہ ظہران سے آگے جارہے ہوں یہاں اتریں اور کسٹم پر جاکر معائنہ کرائیں۔ اس قسم کی غیر معمولی چیکنگ ان سیاسی مجاہدین کی نادانیوں کی قیمت ہے جو وہ اسلام کے نام پر موجودہ زمانہ میں کر رہے ہیں۔ اسلام انسانوں کے لئے رحمت بن کر آیا تھا مگر اسلام کے نادان دوستوں نے اس کو انسانوں کے لئے زحمت بنا دیا ہے۔ ظہران کے ہوائی اڈہ پر ہماری کتابیں اور کاغذات کسٹم والوں نے بے رحمی کے ساتھ نکال کر بکھیر دئے۔ ان کو ہر لٹریچر پر با عیانہ لٹریچر کا شبہ ہوتا ہے۔ اتنے میں شیخ محمد یونس نجرا می آگئے جو یہاں مراقب المطبوعات ہیں ، وہ مجھ کو جانتے تھے۔ انھوں نے اسٹاف کے لوگوں سے کہا کہ ہومن کبار علماء الہند۔ اس کے بعد انھوں نے ہم کو چھوڑ دیا۔

۲ مارچ کو جامعہ کے بڑے ہال میں پہلا محاضرہ تھا۔ اصل محاضرہ عربی میں تھا اور اس کا موضوع تھا: التضامن والدعوۃ الاسلامیۃ۔ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے مقالے کے چند صفحات پڑھے اور پھر یہ کہہ کر اس کو مولانا صفی احمد صاحب کو دے دیا اور انھوں نے بقیہ صفحات پڑھ کر مقالہ کو مکمل کیا۔ سیوالي القرأة انشاء الله اخي الفاضل صفى احمد نيابة عني وبيدا الله التوفيق ۳ مارچ کو جامعہ کی مسجد میں پروگرام تھا۔ یہ مسجد بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور انتہائی سادہ ہوتے کے باوجود انتہائی شاندار ہے۔ یہ دوسرا محاضرہ انگریزی میں تھا۔ میں نے اصل انگریزی محاضرہ کا کچھ حصہ بطور خلاصہ پڑھا اور اس کے بعد کہا:

هذه خلاصة مقالتي وسيلقيها مفصلة باللغة العربية فضيلة الاستاذ محی الدین العربی محی الدین عربی ایک مصری عالم ہیں۔ انھوں نے پہلے سے میرے انگریزی مقالہ کا عربی ترجمہ تیار کر رکھا تھا ۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page