Al-Risala · July 1984 · page 30

عميد شئون الطلاب

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۰

انھوں نے مکمل ترجمہ خالص عربی لہجہ میں پڑھ کر سنایا۔

۴ مارچ کو دوبارہ جامعہ کے بڑے ہال (قاعۃ المحاضرات) میں پروگرام تھا۔ محاضرہ کا عنوان تھا: امکانات جدیدۃ للدعوۃ۔ یہ مقالہ عربی میں تھا۔ میں نے خود پورا مقالہ پڑھ کر سنایا۔ بعد کو لوگوں نے کہا کہ آپ کے پڑھنے کا طریقہ بہت اچھا تھا۔ اور آئندہ آپ کو اپنا مقالہ خود ہی پڑھنا چاہیے خواہ وہ عربی میں ہو یا انگریزی میں۔

اس کے بعد تین دن کا وقفہ تھا۔ اگلا پروگرام ۱۱ مارچ کو دن میں ہوا۔ اصل مقالہ انگریزی میں تھا۔ میں نے ابتدائیہ کچھ کلمات خلاصہ کے طور پر کہے۔ اس کے بعد محی الدین عربی نے اس کا مکمل عربی ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ شام کو نماز مغرب کے بعد حوار مفتوح (سوال وجواب) کا پروگرام تھا۔ میں نے تمہید کے طور پر کچھ ابتدائی کلمات عربی میں کہے۔ اس کے بعد طلبہ کے سوالات کا عذر پر لکھے ہوئے آنا شروع ہوئے۔ کافی سوالات آئے اگر چہ بعض سوالات میرے ذوق کے خلاف تھے۔ تاہم میں نے تمام سوالات کے جوابات دئے۔ اس کی شکل یہ ہوئی کہ ایک ایک سوال پڑھ کر سنایا جاتا اور میں اس کا جواب دیتا۔ یہ مجلس کافی دلچسپ رہی۔ لوگ آخر تک نہایت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ اساتذہ اور ذمہ داروں کی بھی ایک تعداد ہال کے اندر تھی۔

۶ مارچ کی شام کو نماز عشا کے بعد جامعہ اسلامیہ کے ہندوستانی طلبہ بڑی تعداد میں ہوٹل کے کمرہ میں آگئے۔ ان کی خواہش پر میں نے بتایا کہ میرا حاصل مطالعہ کیا ہے اور میں نے اب تک کے مطالعہ سے کیا پایا ہے۔ یہ گفتگو زیادہ اسلامی دعوت کے جدید امکانات کے پہلو پر تھی۔ اس مجلس میں جامعہ کے بعض استاد بھی شریک تھے۔ مزید میں نے کہا کہ سورہ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ جہاں لوگ آپ کی تاریخ ختم کرنا چاہتے ہوں وہاں سے آپ کے لئے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے۔ آپ کا اسور القصص احسن القصص میں تبدیل ہو جائے۔ مگر اس عظیم خدائی انعام کو پانے کی دو لازمی شرطیں ہیں۔ تقویٰ اور صبر (یوسف ۹۰)

۷ مارچ کی شام کو ایک صاحب کے مکان پر ہندوستانی طلبہ کا اجتماع ہوا۔ یہاں میں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا کہ "مومن" ہونے کا مطلب کیا ہے اور جنت میں داخلہ آدمی کو کس طرح ملے گا۔ آخر میں کچھ لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ اپنے مرکز کے مقاصد کے بارہ میں کچھ بتائیں۔ اس سلسلے میں میں نے ضروری تفصیلات عرض کیں۔

مجھ کو ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ اگر اسلام تنقیدی قسم کی سائنس والی باتیں کی جائیں تو لوگ خوب خوش

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page