Al-Risala · July 1984 · page 21

وحید الدین خان فی الجامعة الاسلامیه

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۱

ہوتے ہیں اور ھل من مزید کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر محمد خدا وندی کی باتیں کی جائیں اگر جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا جائے۔ اگر رزق ربانی کے نغمے چھیڑے جائیں تو لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالب یہ ہے کہ پہلا اسلام ان کی پہچان والا اسلام ہے۔ جب کہ دوسرا اسلام ان کی پہچان والا اسلام نہیں۔ آج مسلمانوں نے اسلام کو اپنے لئے سرمایہ فخر بنا رکھا ہے۔ اس لئے پہلی قسم کی باتیں ان کو اسلام کا سائنسی قصیدہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان کو سن کر ان کی نفسیات فخر کو تسکین ملتی ہے اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔ مگر دوسری قسم کی باتیں ان کو اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اسلام کے نام سے وہ اس قسم کی کسی چیز کو جانتے ہی نہیں، اسلام ان کے لئے قومی فخر کا عنوان ہے نہ کہ اصلاحِ ذات کا عنوان فخر والی بات کی جائے تو وہ اس میں اپنے لئے غذا پا لیتے ہیں۔ مگر اصلاحِ ذات والی باتیں کی جائیں تو وہ اس سے متوحش ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا مطلب اپنی نفی ہے۔ اور کون ہے جو اپنی نفی کی قیمت پر حق کا اعتراف کرے رابطہ عالم اسلامی کے ہفتہ وار الدعوۃ (الرياض) مورخہ ۱۲ مارچ 1984 میں شائع شدہ رپورٹ یہاں نقل کی جاتی ہے:

وحید الدین خان فی الجامعة الاسلامیه

المدينة المنورة / مندوب الدعوةضمن الموسم الثقافي و الذي تنظمه عمادة شئون الطلاب بالجامعة الاسلامية بالمدينة المنورة. استضافت الجامعة الداعية الاسلامي الشيخ وحيد الدين خان ، احد كبار علماء الهند والذي يزور الجامعة حالياً، حيث القى اربع محاضرات خلال الاسبوع الماضي - هذا، وقد انهى الشيخ وحيد الدين محاضراته بجوار مفتوح مع طلبة الجامعة . سعودی عرب کے ماہنامہ الفیصل ( ریاض) میں ایک کالم الحركة الثقافية في الوطن العربي کے عنوان سے ہوتا ہے۔ مذکورہ جریدہ کی اشاعت شعبان 1404ھ (مئی 1984ء) میں صفحہ ۱۳ پر جور پورٹ درج ہے وہ یہاں نقل کی جاتی ہے :

محاضرات

الاسلام المعاصر - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان ، وذلك بالجامعة الاسلامية (المدينة المنورة)

الاسلام والمشاكل العصرية - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان بالجامعة الاسلامية التضامن والدعوة الاسلامية - محاضرة القاها الشيخ وحيد الدين خان بالجامعة الاسلامية

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page