محاضرات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۲۵
رہتے ہیں۔ چنانچہ خواتین جب نماز کے لئے حرم میں آتی ہیں تو بچوں کو لانا بھی ان کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ نماز شروع ہونے سے پہلے بچے اپنے ماؤں کی گود میں ہوتے ہیں۔ جب نماز شروع ہوتی ہے تو پاس کی جگہ پر انہیں رکھ کر وہ نماز کے لئے کھڑی ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین جب نماز میں مشغول ہوتیں تو ان کے بچے اپنے کھلونے سے محروم ہو جاتے۔ اور اس بنا پر رونے چیخنے لگتے۔ نماز ختم ہوتے ہی فوراً انہیں اپنا کھلونا مل جاتا اور وہ دوبارہ چپ ہو جاتے۔
یکم مارچ کی شام کو مغرب سے کچھ پہلے میں مسجد نبوی چلا گیا۔ ہمارا ہوٹل (الدخیل) مسجد نبوی سے اتنا قریب تھا کہ تکبیر کی آواز بھی ہمارے کمرہ تک سنائی دیتی تھی۔ مسجد کے صحن میں بیٹھ کر میں سبز گنبد کو دیکھ رہا تھا جس کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ہے۔ اچانک ایسا محسوس ہوا گویا میں تصور کی سطح پر رسول خدا کے ساتھ مربوط ہو گیا ہوں۔ درمیان کا زمانی فاصلہ تھوڑی دیر کے لئے حذف ہو گیا۔ سبز گنبد میرے لئے ایک تاریخی تسلسل کی علامت بن گیا۔
اسلام میں بلاشبہ قبر پرستی نہیں ہے۔ مگر پیغمبر اسلام کی قبر کا ثابت شدہ حالت میں مدینہ میں موجود ہونا آپ کی تاریخی اعتباریت کا ایک پختہ نشان ہے۔ آدمی سبز گنبد کو دیکھ کر گویا ایک تاریخ کو دیکھنے لگتا ہے۔ اس اعتبار سے پیغمبر اسلام کی ” پختہ “ قبر کا موجود رہنا بھی اسلام کی ایک استثنائی ضرورت ہے۔ یکم مارچ کی صبح کو ایک بار میں دسویں منزل سے اپنے کمرہ سے نیچے اترا۔ واپسی کے وقت معلوم ہوا کہ بجلی فیل ہو گئی ہے اور لفٹ کام نہیں کر رہی ہے۔ نیچے گراؤنڈ فلور پر بہت سے لوگ بجلی کی آمد کے انتظار میں کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، میں بھی ایک خالی نشست پر بیٹھ گیا۔ بظا ہر دماغ میں یہ تھا کہ اب ایک ہی صورت ہے ۔ وہ یہ کہ بجلی کے آنے کا انتظار کریں۔ کیوں کہ ” دسویں منزل“ تک سیڑھیوں کے ذریعہ چڑھ کر پہنچنا بہت مشکل کام ہے۔
” آئیے کچھ ورزش کریں “ اچانک مولانا محمد ہاشم القاسمی نے کہا۔ میں سمجھا کہ شاید وہ کہہ رہے ہیں کہ یہاں بیٹھے رہنے کے بجائے ہم لوگ تھوڑی دیر کے لئے باہر کہیں ٹہل لیں۔ مگر جلد ہی معلوم ہوا کہ وہ سیڑھیوں کے ذریعہ چل کر اوپر جانے کی بات کر رہے تھے۔ میں فوراً آمادہ ہو گیا اور ہم دونوں سیڑھی کے ذریعہ اوپر چڑھنے لگے۔ چند منٹ گزرے تھے کہ میں اپنی منزل پر کمرہ نمبر ۹۰۱ میں داخل ہو چکا تھا۔ ہر کام جو بظاہر مشکل یا ناممکن نظر آتا ہے۔ وہ یقینی طور پر ممکن اور آسان ہے، بشرطیکہ ہمت کر کے اس کو شروع کر دیا جائے۔
ہندوستان میں اگر کسی کی موت ہو اور اس کو نماز جنازہ کے لئے مسجد میں لایا جائے تو فرض نماز
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues