محاضرات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۳۶
کے بعد اعلان ہوگا" جنازہ تیار ہے" یہاں حرم میں اکثر کوئی نہ کوئی جنازہ ہوتا ہے اور نماز کے بعد اس کے لئے نماز کا اعلان ہوتا ہے۔ مگر اعلان کے الفاظ اس قسم کے ہوتے ہیں : الصلوٰۃ علی الرجل يرحمكم الله ، الصلوٰۃ علی المرأة يرحمكم الله ، الصلوٰۃ علی الطفل يرحمکم الله عربی زبان کا یہ اندازِ اسلام کی دین ہے۔ اسلام کی چھاپ عربی زبان پر اتنی زیادہ ہے کہ اس کے تمام اسالیب سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایک دن ہمارے ایک ساتھی نے کمرہ کا ٹیلی وژن کھولا تا کہ سعودی عرب کی خبریں سن سکیں۔ اس وقت اتفاق سے ملک فہد کی ایک تقریر کا کچھ حصہ نشر کیا جا رہا تھا۔ ملک فہد کی تقریر میں بار بار اسلامی کلمات ادا ہو رہے تھے۔ مثلاً ایک موقع پر انھوں نے سنجیدہ لہجہ میں کہا : ونرجوا ربنا عز وجل ان یساعدنا ۔ ۔
ایک روز ایسا ہوا کہ حرم میں کوئی صاحب مل گئے۔ اور ان سے بات کرتے ہوئے میں فرش پر بیٹھ گیا جہاں میں بیٹھا وہ اتفاق سے راستہ تھا۔ ایک عرب جو چا ہتے تھے کہ میں راستہ سے ہٹ جاؤں تا کہ لوگوں کو نکلنے میں آسانی ہو، انھوں نے کہا، خل الطريق للناس يرحمك الله عربی زبان کا یہ انداز اس لئے ہے کہ اس کا نشوونما اسلام کی روایات میں ہوا اس کے بر عکس اردو کا نشو و نما بالکل دوسرے حالات میں ہوا۔ چنانچہ مدینہ کے ایک ہندوستانی طالب علم نے ایک ملاقات کے موقع پر سوالیہ انداز میں کہا:
الرسالہ کا تو کوئی دفتر نہیں ہوگا۔ وہ جمعیۃ بلڈنگ کے کمرہ میں ہوگا۔
میں نے یہ جملہ سنا تو میری زبان سے نکلا " الرسالہ کا دفتر زمین و آسمان میں ہے" عربوں کے ذہن پر عام طور پر سب سے زیادہ جو مسئلہ سوار ہے وہ یہود کا مسئلہ ہے ۔ وہ یہودیوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ ایک عرب مصنف کے قلم سے ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام ہے _ اليهود وراء كل جريمة (تمام جرائم کے پیچھے یہودی ہیں) ایک تعلیم یافتہ عرب سے بات ہورہی تھی تو ان کی زبان سے بے اختیار نکلا۔ آج دوبارہ ہم کو ایک صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے۔ ایک مقام پر مجھے کچھ اہل علم کی مجلس میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ آجکل دنیا بھر کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک قسم کے احساس مظلومی Persecution Complex میں مبتلا ہیں۔ کہیں یہودی ان کو اپنے اوپر ظلم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور کہیں غیر یہودی۔ کسی قوم کے لئے نہایت بری علامت ہے۔ قومیں احساس یا فت پر اٹھتی ہیں نہ کہ احساس محرومی پر۔ قرن اول میں جو لوگ مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ گئے۔ وہ موجودہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues