محاضرات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۴۰
۱۰ مارچ کی شام کو شیخ محمد عمر فلا تہ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الجامعة الاسلامیہ کے بعض عجیب واقعات سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ میں جامعہ کے تحت ایک سفر کے دوران کیمرون گیا۔ وہاں جامعہ کے ایک فارغ طالب علم سے ملاقات ہوئی تو وہ بار بار جامعہ کے ایک مستخدم (ملازم) کے بارہ میں سوال کرتا اور اس کا حال پوچھتا۔ میں نے پوچھا کہ تم جامعہ کے شیوخ سے زیادہ مستخدم کے حالات دریافت کر رہے ہو، کیا بات ہے۔ اس کے بعد اس نے بتایا کہ میں تعلیم کی غرض سے جامعہ گیا۔ میں اپنے ساتھ کوئی رقم نہیں لے گیا تھا۔ کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ ساری کفالت جامعہ کی طرف سے ہوگی۔ جب وہ مدینہ کے ائیر پورٹ پر اتراتو اس کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ وہاں کوئی گاڑی اس کی مدد کے لئے موجود نہیں ہے۔ نوجوان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ٹیکسی کرے۔ اگرچہ اس کی جیب میں کوئی رقم موجود نہ تھی۔ تاہم اس نے ٹیکسی کی اور اس کے ذریعہ ائیر پورٹ سے جامعہ پہنچا۔ یہاں جب ٹیکسی والے نے کرایہ (پندرہ ریال) مانگا تو نوجوان نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس پر ٹیکسی والا غصہ میں آگیا۔ اور نوجوان کو دھوکہ باز، شیطان وغیرہ کہنے لگا۔
نوجوان بے بسی کے انداز میں ٹیکسی والے کی سخت کلامی کو سن رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ اتنے میں جامعہ کا ایک مستخدم شور سن کر وہاں آگیا اور ٹیکسی والے سے کہا کہ تم کیوں اس طالب علم کو پریشان کر رہے ہو۔ اس نے کہا کہ یہ دھوکے باز ہے۔ مجھ کو ائیر پورٹ سے لایا اور اب کرا یہ دینا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ مستخدم نے کہا کہ اپنی زبان روکو، یہ ضیوف الرحمن ہیں اور یہ مجھ سے اور تم سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔
اس کے بعد مستخدم نے اپنی جیب سے پندرہ ریال نکالے اور اس کو ٹیکسی کے مالک کے حوالے کیا۔ اس کے بعد یہ مستخدم نوجوان کو لے کر دفاتر میں گیا۔ ضروری کارروائی کرائی اور اس کے سامان کو اس کے کمرہ تک پہنچایا۔ آخر میں جب وہ رخصت ہونے لگا تو اس نے دوبارہ اپنی جیب سے ۲۰ ریال نکالے اور طالب علم کے حوالہ کرکے باہر چلا گیا۔
ایک ہندوستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارہ میں ان کے تجربات پوچھے ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ان کے اندر توسع کا مزاج ہوتا ہے جو ہندوستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت کہتے ہیں۔ ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھر پور اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظر انداز ہو
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues