محاضرات
الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۴۱
کیا جائے۔
بیرونی ممالک کے سفروں میں بار بار مجھ کو اس کا تجربہ ہوا کہ میرے جیسی شکل وصورت کے آدمی کو " ہندوستانی " ہونے کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں ہندوستانی کی تصویر اچھی نہیں۔
مدینہ میں ہم جس ہوٹل میں ٹھہرائے گئے وہ یہاں کے معیار کے مطابق درجہ اول کا ہوٹل نہ تھا تاہم عملہ کا رویہ ابتداءً کچھ زیادہ اچھا نہ تھا۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ انہوں نے ہم کو بس ایک " ہندوستانی مسلمان “ سمجھا۔ اس کے بعد جب انہوں نے دیکھا کہ شیوخ و اکابر مجھ سے ملنے کے لئے آرہے ہیں۔ جامعہ کے مہمانوں کے لئے یہاں قیام و طعام کے بعد صرف مقامی ٹیلی فون کی سہولت ہوتی ہے مگر ہمارے لئے جامعہ اسلامیہ سے ہوٹل کو ہدایت دی گئی کہ شیخ وحید الدین سعودی مملکت کے دوسرے شہروں نیز خارجی ممالک میں بھی ٹیلی فون کر سکتے ہیں اور یہ جامعہ کی طرف سے ان کے لئے خاص ہے؛؛ روھی خاصہ للشيخ وحيد الدين من ادارة الجامعة ( رئیس الجامعة (مدینہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ) نے اسی ہوٹل میں ہمارے اعزاز میں خصوصی ظہرانہ دیا اور آخر میں رخصت ہوتے ہوئے خود آگے بڑھ کر میرے لئے لفٹ کا بٹن دبایا۔ اس قسم کے واقعات کو دیکھ کر ہوٹل والوں کی روش خود بخود درست ہو گئی۔ وہ پہلے جتنا خشک تھے ۔ اب وہ اتنا ہی ہمارے اوپر مہربان ہو گئے۔ ہوٹل کے منیجر نے خود ہمارے کمرہ میں آکر کہا کہ ہم ہر وقت آپ کی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔ حتی کہ اگلے دن تازہ پھل دو ٹرے میں رکھ کر ہمارے لئے بھیجے گئے جس کے ساتھ خوبصورت کارڈ پر یہ لکھا ہوا تھا: مع تحياتنا لسيادتكم بطيب الاقامة اوپر کی سطح پر اگر آپ کا اعتراف کر لیا جائے تو نیچے کی سطح کے لوگ خود بخود آپ کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
۵ مارچ کی صبح کو ہم دو فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ مدینہ کے تاریخی آثار دیکھنے کے لئے نکلے۔ تقریباً نصف دن گزر ابر مصطفے شاور (فلسطینی ثم اردنی ) کو آثار عرب کے بارے میں خاصی معلومات ہیں۔ چنانچہ وہ رہنمائی کرتے رہے۔ مدینہ میں رسول اللہ اور صحابہ کے زمانہ کے اصل آثار اب بہت کم باقی ہیں۔ ان آثار کی ایک حیثیت تاریخی تھی اور دوسری یہ تھی کہ لوگ ان کو مقدس قرار دے کر یہاں آکر مشرکانہ افعال کرتے تھے۔ ذمہ داروں نے ان کی دوسری حیثیت کی بنا پر انہیں ختم کر دیا۔ اس وقت جو آثار ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جہاں نئی تعمیرات کھڑی ہیں۔ مثلاً ایک شخص آپ کو بتائے گا کہ یہاں سقیفہ بنی ساعدہ تھا۔ مگر آج وہاں صرف کھجور اور درخت نظر آتے ہیں۔ مسجد الجمعہ اور مسجد قبا آج موجود ہیں مگر ان کی تعمیرات وہ نہیں ہیں جو ابتدا رمیں تھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues