Al-Risala · July 1984 · page 44

محاضرات

الرسالہ، جولائی ۱۹۸۴، صفحہ ۴۴

فلسطین کے ایک نوجوان احمد عزام سے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں نے اردن میں فلسطینی تحریک کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ اردن میں فلسطینی اتنے طاقت ور تھے کہ اسرائیل ان کے ڈر سے کانپنے لگا تھا کانت اسرائیل ترجف خوفا)

میں نے پوچھا کہ شاہ حسین نے ابتدا ر فلسطینیوں کی کافی مد دکی ۔ پھر بعدکو وہ کیوں ان کے خلاف ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ فلسطینیوں کی قوت شاہ حسین کی قوت پر غالب آگئی (قوتھا تغلبت علیٰ قوة الملک حسین) اس بنا پر شاہ حسین نے ان کو مار کر اردن سے نکال دیا۔ کیسی عجیب بات ہے ، اسرائیل اور شاہ حسین جس قوت سے کانپ رہے تھے وہی قوت اپنے کمز ور حریفوں سے مغلوب ہوکر رہ گئی۔ فلسطینی تحریک کے موجودہ مرحلہ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ۔ بد اً فی فلسطین المحتلة ظاهرة العودة الى الاسلام من جديد، ويظهر ذلك من خلال الالتزام التام لمعظم الشباب الفلسطينيين ولذالك ارى بان المستقبل هو مستقبل الجهاد - لان الناس قد اقتنعوا بأن الثورات الوطنية لن تحقق شيئ - وان الجهاد هو الكفيل بتحرير فلسطين انشاء الله یعنی مقبوضہ فلسطین میں اسلام کی طرف واپسی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ اس کا انداز فلسطینی نوجوانوں کی اکثریت کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اور اس بنا پر میرا خیال ہے کہ فلسطین کا مستقبل جہاد کا مستقبل ہے۔ کیوں کہ لوگوں نے جان لیا ہے کہ وطنی جد وجہد سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اور جہاد ہی فلسطین کی آزادی کی ضمانت ہے انشا ء الله۔

موجودہ زمانہ میں دور اسلام کا آغاز “ کی حقیقت بس وہی ہے جو اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ لوگوں کا اصل مقصد بدستور قومی اور وطنی جد و جہد ہے۔ اس جد و جہد میں قومی اور وطنی نعرے لگانے سے کامیابی نہ ہو سکی۔ اب ان کی مایوسانہ نفسیات نے اسلامی نعرے میں اپنے لئے نئی پناہ تلاش کر لی ہے۔ کچھ قائدین اسلام سے ایک مخصوص گروہ کے بارے میں گفت گو تھی۔ انھوں نے اس گروہ کی ظلم و زیادتی کا ذکر کیا اور ان کے بارہ میں سخت الفاظ استعمال کئے ۔ میں نے کہا کہ ۔ اللہ انھیں ہدایت دے۔ انھوں نے غصہ میں آ کر کہا : ان الله لا یھدی القوم الكافرين - ان اللہ لا يهدى القوم الظلمين ہمارے پر جوش قائدین عموماً ایسے موقع پر اس طرح کی آیتیں پڑھتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ اپنی روش کی تائید میں وہ قرآن کی محکم دلیل پیش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ یہ سرا سر غیر متسر آنی بات ہے۔ ان آیات میں کا فراور ظالم سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں جن کو ہم بطور خود کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ بلکہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا کا فراور ظالم کے خانہ میں ڈالے۔ اور خدا ان لوگوں کو کافر اور ظالم کے خانہ میں ڈالتا ہے جن پر

‹ Previous page Next page › Contents of July 1984 All issues

Printed page