Al-Risala · August 1984 · page 3

قدرت کو قانون

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۳

قدرت کو قانون

ہیری ایمرسن فاسڈک نے زندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کوئی بھاپ یا گیس اس وقت تک کسی چیز کو نہیں چلاتی جب تک اس کو مقید نہ کیا جائے ۔ کوئی نیا گرا اس وقت تک روشنی اور طاقت میں تبدیل نہیں ہوتا جب تک اس کو سرنگ میں داخل نہ کیا جائے ۔ کوئی زندگی اس وقت تک ترقی نہیں کرتی جب تک اس کا رخ پر نہ لگایا جائے ، اس کو وقف نہ کیا جائے ، اس کو منظم نہ کیا جائے ۔

No steam or gas ever drives anything until it is confined. No Niagara is ever turned into light and power until it is tunnelled. No life ever grows until it is focused, dedicated, disciplined. Harry Emerson Fosdick, Living Under Tension قدرت کا ایک ہی قانون ہے جو زندہ چیزوں میں بھی رایج ہے اور غیر زندہ چیزوں میں بھی۔ وہ یہ کہ ہر مطلوب چیز کو حاصل کرنے کی ایک قیمت ہے ، جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے مطلوب چیز حاصل نہیں ہوتی۔

یہاں ابھرنے کے لئے پہلے دبنا پڑتا ہے۔ یہاں ترقی کے درجہ تک پہنچنے کے لئے بے ترقی پر راضی ہونا پڑتا ہے ۔ یہاں دوسروں کے اوپر غلبہ حاصل کرنے کے لئے دوسروں سے مغلوبیت کو برداشت کرنا ہوتا ہے۔

ایک بات بظاہر سادہ سی ہے مگر انسان اپنی عملی زندگی میں اکثر اسے بھول جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ ہم اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں ۔ جب صورت حال یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے تو ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو جانیں اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔ اس کے سوا کسی اور تدبیر سے یہاں ہم اپنے لئے جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔

جو لوگ چاہتے ہوں کہ ان پر یہ مراحل نہ گزریں اور اس کے بغیر وہ ترقی اور کامیابی کے مقام کو پالیں ان کو اپنی پسند کے مطابق دوسری دنیا بنانی پڑے گی ۔ کیوں کہ خدا نے جو دنیا بنائی ہے اس میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page