Al-Risala · August 1984 · page 4

کائنات کو پڑھئے

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۴

کائنات کو پڑھئے

قرآن کتاب کائنات کی ڈکشنری ہے۔ یہی بات قرآن میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے یہد بر الاصر يفصل الآيات (الرعد (۲) یعنی خدا کائنات کا انتظام کر رہا ہے اور قرآنی آیتوں کے ذریعہ اس کی تفصیل بیان کرتا ہے۔

ایک شخص کائنات کو دیکھتا ہے۔ وہ اپنی نا فہمی سے یہ سمجھنے لگتا ہے کہ کائنات ایک اتفاقی حادثہ کا نتیجہ ہے۔ یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ نہیں، کائنات ایک صاحب ارادہ کے ارادی منصوبہ کے تحت وجود میں آئی ہے۔

ایک شخص دیکھتا ہے کہ کائنات بظاہر کچھ اسباب کے تحت چل رہی ہے۔ وہ سمجھ لیتا ہے کہ کائنات ایک عظیم خود چالو مشین ہے۔ یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ نہیں، کائنات کو خدا کے فرشتے خدا کے حکم سے چلا رہے ہیں ایک شخص انواع حیات کے بعض ظاہری پہلوؤں کی بنا پر یہ رائے قائم کر لیتا ہے کہ زندگی کی تمام قسمیں سلسلہ ارتقاء کے تحت وجود میں آتی ہیں۔ یہاں قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے اور اس کو بتاتا ہے کہ نہیں۔ زندگی کی مختلف قسمیں ایک خالق کی تخلیق سے ظہور میں آئی ہیں۔

کائنات کو دیکھئے تو یہاں آرٹ اور کمال کے حیرت انگیز نمونے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ایٹم رقص کر رہے ہیں، یہاں دوبے جان مادے باہم مل کر تیسری نئی چیز میں ڈھل جاتے ہیں۔ یہاں بے شمار ستارے سفر کر رہے ہیں اور ان کی رفتار میں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں ہوتا۔ یہاں ایک بیج سرسبز درخت کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ یہاں زندگی کا سیلاب چاروں طرف رواں دواں نظر آتا ہے۔ اس قسم کے بے شمار عمل یہاں جاری ہیں مگر تمام عمل خاموشی کے ساتھ انجام پا رہے ہیں۔ کائنات کا کوئی کردار اپنا تعارف نہیں کراتا ، وہ انسان سے ہم کلام ہو کر اپنے بارے میں کچھ نہیں بتا تا۔

آدمی یہ دیکھ کر سوچنے لگتا ہے کہ کائنات شائد گونگے تنہا کاروں کا عجائب خانہ ہے۔ یہاں قرآن اس کو بتاتا ہے کہ موجودہ دنیا کے ہنگامے بے مقصد نہیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب کہ دنیا کی معنویت پوری طرح ظاہر ہو۔ اس وقت تمام چیزیں بول پڑیں گی جس طرح خاموش ریکار ڈگراموفون کی سوئی کے نیچے آتے ہی بولنے لگتا ہے۔ اس دن ان تمام کمیوں کی تلافی ہوگی جو موجودہ دنیا میں نظر آتی ہیں۔ انسان اپنے تمام سوالات کا جواب پالے گا۔ ہر انسان اپنے اس انجام کو پہنچ جائے گا جہاں با عتبار حقیقت اسے پہنچنا چاہئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page