Al-Risala · August 1984 · page 9

قدرت کی مثال

الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۹

قدرت کی مثال

شکاریات کے ایک ماہر نے لکھا ہے (ٹائمس آف انڈیا ۲۱ مئی ۱۹۸۴) کہ شیر اکثر اس وقت مردم خور بن جاتے ہیں جب کہ وہ اتنے بوڑھے ہو جائیں کہ وحشی جانوروں کو نہ پکڑ سکیں۔ مگر دس میں سے ۹ مردم خور شیر وہ ہیں جن کو غلط شکاری زخمی کر دیتے ہیں :

The big cats turn into man-eaters often when they are too old to hunt and trap wild animals. But nine times out of ten, they do so because a poacher has wounded them. شیر اپنی فطرت کے اعتبار سے مردم خور نہیں۔ مگر وہ تمام جانوروں میں سب سے زیادہ ”دشمن خور‘‘ ہے۔ شیر جس کو اپنا دشمن سمجھ لے اس کو وہ کسی حال میں نہیں بخشتا۔ عام حالات میں شیر کسی انسان کو دیکھتا ہے تو وہ کترا کر نکل جاتا ہے۔ لیکن ایسے شکاری جن کے پاس اچھے ہتھیار ہوں اور اناڑی پن کے ساتھ شیر پر فائر کریں، وہ اکثر اس کو مار نہیں پاتے بلکہ زخمی کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وہ شیر ہیں جو مردم خور بن جاتے ہیں، وہ انسان کو اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں اور جب بھی انسانی صورت میں کسی شخص کو دیکھ لیتے ہیں تو اس کو ختم کئے بغیر نہیں رہتے۔

یہ زندگی کا ایک قانون ہے۔ وہ جس طرح شیر اور انسان کے لئے درست ہے اسی طرح وہ انسان اور انسان کے لئے بھی درست ہے۔ ایک انسان کا معاملہ ہو یا ایک قوم کا معاملہ، دونوں حالتوں میں دنیا کا اصول یہی ہے۔ جس دشمن کو آپ ہلاک نہیں کر سکتے اس کو زخمی بھی نہ کیجئے، کیوں کہ زخمی دشمن آپ کے لئے پہلے سے بھی زیادہ بڑا دشمن ہوتا ہے۔

ایک شخص آپ کا دشمن ہو اور آپ کافی تیاری کے بغیر اس پر وار کریں تو یہ اپنی قبر خود اپنے ہاتھ سے کھودنا ہے۔ اس قسم کے اقدام کے پیچھے بے صبری کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ جن لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ وہ سوچ سمجھ کر منصوبہ بنائیں اور خاموش جد وجہد کے ذریعہ اپنے آپ کو مضبوط اقدام کے قابل بنائیں وہی وہ لوگ ہیں جو دشمن پر سطحی وار کر کے دشمن کو اور زیادہ اپنا دشمن بنا لیتے ہیں اور بعد کو شکایت اور احتجاج کا دفتر کھول دیتے ہیں۔ حالاں کہ اس دنیا میں نہ جھوٹے اقدام کی کوئی قیمت ہے اور نہ جھوٹی شکایتوں کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues

Printed page