ترقی کا راز
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۸
ترقی کا راز
ابن بطوطہ ( ۷۰۹ - ۷۰۳ھ ) چودھویں صدی عیسوی کا مشہور عرب سیاح ہے۔ اس کا پورا نام شمس الدین محمد بن عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم اللواتی ہے۔ وہ مغرب کے شہر طنجہ میں پیدا ہوا۔ اس نے تین بار دنیا کے سفر کئے جن کی مجموعی مدت ۲۹ سال ہے۔ وہ جن ملکوں میں گیا ان میں مغرب، الجزائر، تونس، مصر، شام، فلسطین، حجاز، عراق، فارس، یمن، ایشیا مائنر، ترکی، خوارزم، بخارا، افغانستان سیلان، ملایا، انڈونیشیا، ہندوستان، چین، جاوا، اندلس، جبرالٹر، ،مشرقی و مغربی افریقہ ، سوڈان وغیرہ شامل ہیں۔
ابن بطوطہ نے ۱۳۲۵ سے ۱۳۵۲ء کے دوران تین عالمی سفر کئے ۔ ان سفروں کی مجموعی مسافت تقریباً ۷۵۰۰۰ میل ہے۔ ابن خلدون ( ۸۰۸ - ۷۳۲ھ ) ابن بطوطہ کا ہم زمانہ تھا۔ اس نے اپنے مقدمہ میں مختصر طور پر ابن بطوطہ کا ذکر کیا ہے۔
ابن بطوطہ نے اپنے سفر کے حالات پر کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے تحفۃ النظار في غرائب الامصار و عجائب الاسفار۔ تاریخ اور جغرافیہ سے متعلق یہ اہم کتاب آج اپنے موضوع پر انتہائی مشہور کتاب بن چکی ہے۔ تاہم ابتدائی پانچ سو سال تک وہ محض ایک مخطوطہ کی صورت میں الجزائر کے ایک کتب خانہ میں پڑی رہی۔ انیسویں صدی عیسوی میں جب فرانسیسیوں نے الجزائر پر قبضہ کیا تو وہ اس کتاب کو حاصل کر کے پیرس لے گئے۔ وہاں اس کا فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا گیا جو پہلی بار ۱۸۵۳ء میں حواشی کے ساتھ شائع ہوا۔
ابن بطوطہ کا سفرنامہ اصل عربی زبان میں پہلی 1871 میں قاہرہ سے شائع ہوا اور دوسری بار ۱۹۰۴ ء میں۔ بعد کو اس کا ترجمہ روسی زبان میں اور یورپ کی اکثر زبانوں میں شائع کیا گیا۔ ( الفيصل مئی ۱۹۸۴ )
مغربی قوموں نے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی حکومتوں کو مٹانے کے لئے ہر قسم کی کوشش کی۔ مگر عین اسی زمانہ میں انھوں نے مسلم کتب خانوں میں پڑی ہوئی بے شمار کتابوں کو اہتمام کے ساتھ چھاپا اور ان کے ترجمے کئے ۔ انھوں نے سیاست کے معاملے کو الگ رکھا اور علم کے معاملہ کو الگ ۔ یہی کسی قوم کی زندگی کی پہچان ہے اور اسی میں قومی ترقی کار از چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues