کہاں سے کہاں تک
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۱
اپنے ذہن کا قصور قرآن کی سورہ نمبر4 کی ایک آیت حسب ذیل ہے :
افلا يتدبرون القرآن ولو كان من کیا لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے۔ اور اگر وہ اللہ کے عند غير الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا سواکسی اور کی طرف سے ہوتا تو یقیناً وہ اس میں النساء ۸۲ بہت زیادہ اختلاف پاتے مولانا محمود حسن دیوبندی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
" اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہو گیا کہ جو تدبر اور وہم سے کام نہ لے وہ قرآن میں شبہات اور اختلافات کا فہم چلا سکتا ہے۔ مگر فہم ایسا نہیں کر سکتا۔ دیکھو، جو اسی مقام میں تدبر نہ کرے وہ کہہ سکتا ہے کہ اول توفرمایا قل كل من عند الله کہو کہ سب اللہ کی طرف سے ہے، اور پھر فرما دیا وما أصابك من سيئة فمن نفسك (اور تجھ کو جو برائی پہنچے وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے) سو یہ تو تناقض اور اختلاف ہوگیا۔ " تفسیر قرآن، صفحہ ۱۱ انسان کا علم محدود ہے۔ اس لئے اکثر اوقات وہ ایسی رائے قائم کر لیتا ہے جو صرف اس کے ذہن میں ہوتی ہے۔ اس کے اپنے ذہن کے باہر اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ اس لئے سنجیدگی اور ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ آدمی پوری طرح سمجھے بغیر کوئی رائے قائم نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ کوئی خبر معلوم ہو تو پہلے اس کی تحقیق کرو۔ جب بھی کسی کے بارہ میں کوئی ایسی بات سامنے آئے جس سے اس کی ذات یا اس کے کام کے متعلق بری رائے قائم ہوتی ہو تو محض ایک بار سن کر اس کو مان لینا صحیح نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ یا تو اس کے بارہ میں چپ رہے یا قابل اعتماد ذرائع سے اس کی تحقیق کرے ۔ جب تحقیق سے بات پوری طرح ثابت ہو جائے اس کے بعد اس کو حق پہنچتا ہے کہ اس کو مانے یا اس کو بیان کرے ۔
ضروری تحقیق کے بغیر کسی کے متعلق بری رائے قائم کرنا اللہ کے نزدیک گناہ ہے۔ اور دنیا میں اس کا نقصان یہ ہے کہ سماج کے اندر ایک دوسرے کے خلاف بے بنیاد غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ غیر ضروری شکائیں وجود میں آتی ہیں۔ لوگوں کے دل ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں اور آپس میں ایسا اختلاف پیدا ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues