غیر مشرکین کا شرک
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۲
غیر مشرکین کا شرک
قدیم زمانہ میں اللہ کے جو پیغمبر اٹھے ان سب کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ہر ایک کو ان کے متتبعین نے رد کر دیا۔ ان کو حقیر جانا ، ان کی مخالفت میں ہر وہ چارہ کارروائی کی جو وہ کر سکتے تھے۔ یہ مخالفت اس قسم کی نہیں تھی جو موجودہ زمانہ میں ان ملکوں کی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے جہاں کوئی ڈکٹیٹر حکومت کے تخت پر قابض ہو ۔ اس مخالفت کی وجہ سیاسی نہیں بلکہ تمام تر نفسیاتی تھی۔ لوگوں نے غیر خدا کے ساتھ اپنے قلبی جذبات کو وابستہ کر لیا تھا۔ وہ کسی غیر خدا کو عظمت اور تقدس کا مقام دئے ہوئے تھے۔ جب پیغمبر ایک خدا کی معبودیت کا اعلان کرتا اور دوسرے تمام معبودوں کو بے حقیقت قرار دیتا تو اس سے لوگوں کے دل پر چوٹ پڑتی ، وہ اپنے بت کو ٹوٹتا ہوا دیکھ کر لڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے۔
قرآن سے یہ ثابت ہے کہ خدا کے جتنے پیغمبر آئے سب کا مشترک پیغام یہ تھا کہ اے لوگو ، ایک خدا کو اپنا الہ بناؤ اور اسی کی عبادت کرو (اعبد و اللہ مالکم من اله غيره) یہ واضح طور پر ایک غیر سیاسی تعلیم تھی۔ اس سے مراد یہ تھا کہ آدمی صرف ایک خدا سے ڈرے اور اسی سے محبت کرے۔ صرف ایک خدا کو وہ اپنی عقیدت اور توجہ کا مرکز بنا لے ۔
کسی انسان کی زندگی میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سوچ اور جذبات کا مرکز کس کو بناتا ہے۔ جس ہستی کو آدمی اس طرح اپنا مرکز توجہ بنائے وہی اس کا معبود ہے۔ پیغمبر یہ بتانے کے لئے آئے کہ موجودہ دنیا میں جو شخص اپنی توجہات کا مرکز خدا کو بناتا ہے وہی ہدایت پر ہے اور موت کے بعد کی زندگی میں وہی کامیاب ہوگا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنی توجہات کا مرکز کسی اور کو بنائے وہی وہ شخص ہے جو راہ سے بے راہ ہو گیا۔ اس کے لئے آخرت میں خدا کا انعام پانا مقدر نہیں۔ خدا کے سوا جن چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنایا جاتا ہے وہ عام طور پر چند ہیں۔ ۱۔ فطرت کے نمایاں مظاہر ، مثلاً سورج ، چاند ، ستارے وغیرہ ۲۔ قوم کے اکابر ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو تاریخی اسباب کے تحت "بڑا" سمجھ لیا جاتا ہے۔ اور پھر ان کے گرد عظمت و تقدس کی فرضی داستانیں جمع ہونے لگتی ہیں ، یہاں تک کہ لوگوں کے ذہنوں میں ان کی ایک افسانوی تصویر بن جاتی ہے ، جس کا ابتدائی حقیقی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues