خدا کا داعی
الرسالہ، اگست ۱۹۸۴، صفحہ ۱۴
خدا کا داعی
داعی بنناخدا کا پیغام بر بننا ہے۔ خدا کا پیغام بروہی بن سکتا ہے جو خدا سے پا کر بولے اور خدا سے سن کر کلام کرے۔
خدا ملفوظ کلام میں بھی بولتا ہے اور غیر محفوظ کلام میں بھی۔ خدا کا ملفوظ کلام رسولوں کے لئے خاص ہے اور وہ آخری رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ختم ہوگیا۔ موجودہ دنیا میں اب خدا کسی سے ملفوظ زبان میں کلام کرنے والا نہیں۔
مگر خدا کا غیر ملفوظ کلام بدستور جاری ہے۔ جس طرح کسی شخص کے پیغمبر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو خدا کا ملفوظ کلام پہنچے۔ اسی طرح داعی و ہی شخص بن سکتا ہے جو خدا کے غیر ملفوظ کلام کا آخذ (Recipient) ہو۔ جس کو خدا کا غیر ملفوظ کلام مسلسل مل رہا ہو۔ کوئی شخص وحی کے بغیر پیغمبر نہیں بن سکتا۔ اسی طرح کوئی شخص خدا کا داعی نہیں بن سکتا جب تک اس کی رسائی خدا کے غیر ملفوظ کلام تک نہ ہو جائے۔
خدا ہواؤں کو اپنا سفیر بنا کر بھیجتا ہے۔ خدا چڑیوں کی صورت میں اپنا نغمہ بکھیرتا ہے۔ خدا دریا کے تموج کے ذریعہ آواز دیتا ہے اور سورج کی روشنی کے ذریعہ اپنی مرضی سے مطلع کرتا ہے۔ وہی شخص داعی ہے جو خدا کے ان اعلانات کو سن کر اسے دوسروں کو سنانے کے لئے اٹھے۔ جو شخص اس کے بغیر خدا کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے وہ خدا کا مجرم ہے نہ کہ خدا کا داعی۔
داعی حقیقت وہ ہے جس کے بارہ میں خدا کے فرشتے گواہی دیں کہ خدا آیا تیرا یہ بندہ وہ ہے جو دوسروں کو وہ چیز دینے کے لئے اٹھا جس کو اس نے تجھ سے پایا تھا۔ تو آسمانوں کے ذریعہ جس حقیقت کا اعلان کر رہا تھا اس کو اس نے سنا اور تیرے بندوں کو اسے سنایا۔ تو نے سورج اور چاند کے ذریعہ جس ہدایت کو کھولا اس کو تیرے اس بندے نے پڑھا اور لوگوں کو اسے پڑھوایا۔ تو درختوں اور پہاڑوں کے ذریعہ اپنی مرضی کو ممثل کر رہا تھا اس کو اس نے پہچانا اور لوگوں کو اس سے آگاہ کیا۔ دعوت کا عمل ایک انتہائی زندہ عمل ہے۔ داعی کو ہر روز نئی چیز دریافت کرنا چاہئے۔ اس کو ہر روز خدا کا نیا فیضان ملنا چاہئے۔ ساری کائنات کو اس کے لئے ختم ہونے والا دستر خوان بن جانا چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہو تو داعی جمود کا شکار ہو جائے گا۔ اور جو شخص جمود کا شکار ہو جائے وہ خود موت سے دوچار ہو چکا ہے۔ وہ دوسروں کو زندگی کا پیغام کیا دے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1984 All issues